Posts

تمغہ امتیاز کی بندر بانٹ، ایک افسوسناک باب، مسعود حسین جعفری

Image
تمغہ امتیاز ریاست کا وہ اعزاز ہے جو قربانی، علم، فن اور وطن سے وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ تمغہ میرٹ کے بجائے سفارش، تعلق اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر بانٹا جائے تو یہ اعزاز نہیں رہتا بلکہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو تقسیم ہوئی اس نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان عناصر کو تمغوں سے نوازا گیا جن کا ماضی داغدار رہا۔ وہ لوگ جن کے فیصلوں سے وطن عزیز کو معاشی، سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا، جن کی پالیسیوں سے ادارے کمزور ہوئے اور عوام کا اعتماد گرا، آج سینے پر تمغے سجائے قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب تاریخ کے مجرموں کو ہیرو بنا دیا جائے تو نئی نسل کیا سبق سیکھے گی؟ یہ عمل نہ صرف تمغہ امتیاز کی ناقدری ہے بلکہ اس ادارے کی بے عزتی ہے جس کے نام پر یہ دیا جاتا ہے۔ اس منظر پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔اس سے بھی بڑا المیہ تعصبی رویہ ہے جو اس تقریب میں عیاں ہوا۔ دیگر صوبوں کی خدمات، قربانیاں اور صلاحیتیں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے ایسے نام تھے جو اس اعزاز کے اصل حقدار تھے، مگر فہرست میں انہیں جگہ نہ ...

کراچی کی سب سے بڑی جماعت... اب خود انتشار کا شکار، مسعود حسین جعفری

Image
ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اصل چپقلش بنیادی طور پر دو دھاروں کے درمیان ہے: ایک طرف "بانی ایم کیو ایم" کے بیانیے سے جڑے کارکن، دوسری طرف بہادر آباد قیادت جو ریاستی اداروں اور موجودہ سیاسی نظام کے ساتھ بقا کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ اختلافات پھر سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ کراچی کی بلدیاتی نمائندگی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر کسی ایک مرکز کا کنٹرول نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مزید دھڑے بندی کا جواز بنایا جائے گا؟ اگر قیادت کسی متفقہ بیانیے پر نہیں آتی تو کارکنوں کی وفاداریاں تقسیم ہوتی رہیں گی۔ بہادر آباد گروپ عملی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ لندن سے بیانیہ اب بھی جذباتی ووٹ بینک کو متحرک کرتا ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور نئی مقامی جماعتیں کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اندرونی لڑائی سے پارٹی کا انتخابی اثر کم ہو گا، خاص کر نوجوان ووٹر متبادل تلاش کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اتحادی دونوں چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک پلیٹ...

وزیر داخلہ نے آئینہ دکھا دیا،اب کون جواب دے گا؟ مسعود حسین جعفری

Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ حکمرانی کے بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نقوی نے اپنے بیان میں موجودہ حکومت کی کارکردگی، عوامی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سیاسی گلیاروں میں فوری مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی اس بیان کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت الفاظ کسی ذمہ دار وفاقی وزیر سے سامنے آنے کے بعد اداروں میں گھبراہٹ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست کے اندر پالیسی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ اور زرداری لیگ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا پر ایک دوسرے کا دفاع کرتے نظر آئے، لیکن اندرون خانہ اجلاسوں میں حکومت کے مستقبل اور اتحادی ڈھانچے پر کھلی بحث ہوئی۔ پارٹی کارکن بھی سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال کے بعد اب حکوم...

اقتدار پرستوں کا آخری ہتھیار، کشمیریوں کا خون! مسعود حسین جعفری

Image
ن لیگ اور زرداری لیگ کا اصل چہرہ اب کشمیریوں کے سامنے کھل چکا ہے۔ برسوں تک یہ اقتدار پرست جماعتیں کشمیر کے نام پر تقریں کرتی رہیں، قراردادوں کے وعدے کرتی رہیں، لیکن عملی طور پر کشمیر کو بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی طرح ایک جاگیر سمجھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد کشمیریوں کے حقوق نہیں تھے، مقصد صرف اسلام آباد اور لندن میں بیٹھ کر کرسیاں بچانا تھا۔کشمیری قوم نے بہت صبر کیا۔ انہوں نے ان کے جھوٹے بیانیے، فوٹو سیشن اور خالی نعرے دیکھے۔ جب کشمیریوں نے سوال کیا کہ ہمارے زخموں کا مداوا کب ہوگا، ہمارے شہیدوں کے قاتل کب پکڑے جائیں گے، ہمارے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا تو ان اقتدار پرستوں کے پاس جواب نہیں تھا۔ کشمیریوں نے جب انکار کیا، جب مسترد کر دیا، تو ان کے اصل مکروہ چہرے سامنے آ گئے۔مکالمے کی بجائے دھمکی، سیاست کی بجائے طاقت اور دلیل کی بجائے گولی کو ہتھیار بنایا گیا۔ جن لوگوں نے جمہوریت کا لیکچر دیا تھا وہی آج کشمیریوں پر بندوق تان رہے ہیں۔ جنہوں نے خود کو عوام کا خادم کہا تھا وہی آج کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہے ہیں۔لیکن کشمیری ثابت قدم ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کی سرزمین نے ہم...

کشمیر جل رہا ہے اور چند ہوس پرست اقتدار کی ہولی کھیل رہے ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ اور زرداری لیگ اپنی اقتدار کی بھوک میں کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ کشمیر کے عوام دہائیوں سے حق خودارادیت، مہنگائی، آٹے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناپاک ہتھکنڈوں سے اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوش کی۔ن لیگ نے ہمیشہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلے تو اس کی مقامی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بہتر سمجھا۔ پولیس اور انتظامیہ کو آگے کر کے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، اور میڈیا پر پابندیاں لگا کر اصل صورتحال چھپانے کی کوش ہوئی۔ دوسری طرف زرداری لیگ نے بھی ماضی کی طرح موقع پرستی کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف بیانات میں کشمیریوں سے ہمدردی کے دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کی خاطر اسی مکاری چالبازی بندوق کے ذریعے عوامی تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا۔ دونوں جماعتوں نے کشمیر کے اندر اپنی اپنی گروپ بندیوں کو فنڈز اور سرکاری مشینری دی تاکہ اصل عوامی نمائندوں کی آواز دبائی جا سکے۔ اس ٹکراؤ...

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

Image
ایران کے عرب ممالک میں قائم اسرائیلی اڈوں پر حملے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کا توازن بدل رہے ہیں۔ اس سے خطے میں نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے اور ہر ملک کو اپنا موقف واضح کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ کرپٹ عناصر اس لیے بے چین ہیں کیونکہ ان کے مفادات بیرونی طاقتوں اور خلیجی سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے ماضی میں دوغلی پالیسی اپنائی: ایک طرف عوام کے سامنے مزاحمت اور خودمختاری کی بات، دوسری طرف پردے کے پیچھے ایسے معاہدے اور تعلقات جو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی فائدے کے لیے تھے۔ جب ایران کھل کر اسرائیلی موجودگی کو نشانہ بناتا ہے تو یہ دوغلا بیانیہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اس بے نقابی سے دو نقصان ہوتے ہیں۔ پہلا، ان کے بیرونی سرپرست ناراض ہوتے ہیں اور فنڈنگ یا ویزے بند ہونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا، عوام کو سچ نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھتے ہیں کہ پالیسی کیا ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے ملک و قوم میں نفرت پھیل رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیادت اصولوں پر نہیں، مفادات پر فیصلے کر رہی ہے۔ جب عوام کو لگے کہ حکمران دباؤ میں آ کر قوم کے جذبات بیچ رہے ہیں تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور مایوسی نفرت میں بدل جاتی ہے۔

زرداری لیگ کی جبری حکمرانی نامنظور،کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گے! مسعود حسین جعفری

Image
آزاد کشمیر کے عوام آج ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ کشمیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی جبری سیاست کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی زبردستی کی ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ مقامی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر فیصلے اسلام آباد سے مسلط کیے جائیں، اور کشمیریوں کی نمائندہ آواز کو دبایا جائے۔ کشمیریوں کا موقف ہے کہ ان کے وسائل، خودمختاری اور سیاسی فیصلوں پر پہلے ہی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک نئی سازش کے تحت کشمیری پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حاشیے پر دھکیل کر ایک ہی جماعت کی اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب کشمیر کے اندر جمہوری جماعتیں موجود ہیں تو باہر سے مسلط کردہ قیادت کی کیا ضرورت ہے؟ بلاول پر الزام ہے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق غضب کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈکٹیٹ کیے گئے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مس...

ایران مخالف بیانیہ، اسرائیل کے حامی مولویوں کے ترتیب وار حملے، مسعود حسین جعفری

Image
پاکستان میں بھی اب صورتحال دیگر اسلامی ممالک جیسی بنتی جا رہی ہے جہاں مذہبی طبقہ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی پاکستانی مولوی ٹی وی چینلز، جمعہ کے خطبات اور سوشل میڈیا پر ایران کو اصل فتنہ قرار دے کر اسرائیل کے موقف کو بالواسطہ درست ثابت کر رہے ہیں۔ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ خطے کا اصل خطرہ ایران ہے، اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا وقت کی ضرورت ہے۔اس میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خاموش رضامندی بھی شامل ہے۔ پالیسی سطح پر جب تعلقات کو نرم کرنے کے اشارے دیے جاتے ہیں تو مذہبی طبقے کو گرین سگنل مل جاتا ہے کہ وہ عوام کو ذہنی طور پر تیار کرے۔ اسی لیے اب ایسے مولوی سامنے آ رہے ہیں جو فلسطین کے بجائے "امت کی وحدت" اور "ایرانی توسیع پسندی" کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔پاکستانی مولویوں کا سب سے اہم کردار ایران مخالف بیانیہ بنانا ہے۔ وہ شیعہ-سنی تفریق کو ہوا دے کر ایران کو امت کا دشمن ثابت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ یوں مذہب، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی لائن ایک ہی سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے: ایران کے خلاف ...

پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال، انتہائی اختصار کے ساتھ، مسعود حسین جعفری

Image
پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال انتہائی اختصار سے یہ ہے کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے سول، فوجی اور مخلوط حکومتی ادوار آتے رہے ہیں۔ آئین پاکستان جمہوری نظام، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب بھی آمریت، ڈکٹیٹرشپ یا غیر جمہوری مداخلت کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد وہ ادوار لیے جاتے ہیں جن میں منتخب نمائندوں کے بجائے غیر آئینی طریقے سے اقتدار سنبھالا گیا، بنیادی حقوق معطل ہوئے، یا سیاسی مخالفین پر کریک ڈاؤن ہوا۔ "ظلم و جبر"، "فرعونیت" اور "شہریوں کا قتلِ عام" جیسے الفاظ عام طور پر انسانی حقوق کی پامالیوں، لاپتہ افراد، ماورائے عدالت کارروائیوں اور پرتشدد واقعات پر عوامی ردعمل میں استعمال ہوتے ہیں۔ کھلی کرپشن کا بیانیہ شفافیت، احتساب کے اداروں کی کارکردگی اور بڑے مالی اسکینڈلز سے جڑا ہے۔ 2 خاندان بندوق کے زور پر مسلط ایک سیاسی نعرہ ہے جو مخصوص سیاسی گھرانوں کے تسلط اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کے لیے بولا جاتا ہے، مگر اس کی تصدیق کے لیے آئینی، عدالتی اور انتخابی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔ جمہوری استحکام کے لیے آزاد انت...

سندھ حکومت/بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
سندھ حکومت نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بجائے صرف الفاظ کا ہیر پھیر لگتا ہے۔ تقریر میں "ترقی، خوشحالی اور عوام دوست اقدامات" کے نعرے تو بہت بلند کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ تعلیم اور صحت کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن پچھلے سالوں کی طرح فنڈز کی اصل تقسیم اور خرچ کا طریقہ کار مبہم رکھا گیا۔ کراچی، حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کی سڑکوں، پانی اور نکاسی کے مسائل پر پرانے وعدے ہی دہرا دیے گئے۔ نئے منصوبوں کے نام تو رکھ دیے گئے، مگر ان کی تکمیل کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ ٹیکس اور سبسڈی کے اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سننے میں ریلیف لگے، مگر مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی جیب پر بوجھ ہی بڑھے گا۔ "ڈیجیٹل سندھ" اور "گرین انرجی" جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوش کی گئی، مگر عملی منصوبہ بندی غائب ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے۔ کاغذ پر سب کچھ بہتر ہے، مگر عوام کو اس سے کتنا فائدہ پہنچے گا، ی...

ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل! مسعود حسین جعفری

Image
ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اربابِ اختیار سیاسی قیادت کا انتخاب ووٹ کی پرچی سے نہیں بلکہ بند کمروں میں انٹرویو اور ڈیل کے تحت کرتی ہے۔ عوام کو الیکشن کے نام پر ایک ڈرامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا تاثر قائم رہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔جسے اسٹبلشمنٹ منظور کر لے، اقتدار اس کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جسے ناپسند کر لیا جائے، اس سے اقتدار واپس چھین لیا جاتا ہے۔ یہ چھیننا کبھی عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی احتساب کے نام پر، اور کبھی "غیر آئینی" کہہ کر۔ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ جاتی ہے۔الیکشن مہم، جلسے، نعرے، سب کچھ صرف دھوکا ہے۔ اصل سلیکشن پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں پانچ سال پورے نہیں کر پاتیں۔ جس دن اسٹبلشمنٹ کا من پسند تبدیل ہو جائے، اسی دن حکومت کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا اقتدار کس کو دیا جائے گا۔ پرانا چہرہ واپس لایا جائے گا یا کوئی نیا من پسند سامنے آئے گا۔ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا، فیصلہ وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔میرے محب وطن ہم وطنوں ک...

غیر آئینی و غیر قانونی وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات! مسعود حسین جعفری

Image
وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات۔وفاقی غیر آئینی و غیر قانونی حکومت عوام پر زبردستی بجٹ تھوپنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ بجٹ مشاورت، شفافیت اور عوامی مفاد کے بغیر تیار کیا گیا، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پوری قوم محسوس کرے گی۔ مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور سبسڈیز کا خاتمہ عام آدمی کی قوت خرید کو براہ راست متاثر کرے گا۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط طبقہ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اب اس پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ایسے یکطرفہ فیصلوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے، کاروبار سست پڑتے ہیں اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر وہ طبقات ہیں جو اس پالیسی کی قیمت سب سے زیادہ ادا کریں گے۔جب فیصلے ایوانوں میں عوام کی آواز سنے بغیر کیے جائیں تو ملک و قوم کا نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔ یہ لوگ کسی صورت ملک و قوم سے مخلص نہیں، کیونکہ مخلص قیادت ہمیشہ عوام کو ساتھ...

مسلم ممالک میں اسرائیل کا خوف ایک ناسور بن گیا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
مسلم ممالک میں اسرائیل کا خوف ایک ناسور بن گیا ہے ۔مسلم دنیا آج جس دور سے گزر رہی ہے وہ تاریخ کا تلخ ترین باب ہے۔ وہ ممالک جو کبھی اسلام کا قلعہ کہلاتے تھے، آج مسلمانوں کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ اسرائیل کے خوف نے ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ پہلے فلسطین کی زمین پر قبضہ ہوا تو آوازیں اٹھیں، قراردادیں پاس ہوئیں۔ اب جب معاملہ اپنی سرحدوں تک پہنچا تو وہی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے مسلم حکمرانوں نے اپنی زمینیں، اپنی خودمختاری، اپنی غیرت سب کچھ سودے بازی میں رکھ دی۔ جو ممالک کل تک امت کی بات کرتے تھے، آج معاہدوں کے نام پر اپنی سرزمین کے ٹکڑے دشمن کے حوالے کر رہے ہیں۔ بیس کیمپ دیے جا رہے ہیں، فضائی حدود کھول دی گئی ہیں، اور سفارتی تعلقات کو "مصلحت" کا نام دے کر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلمان بے بس دیکھ رہا ہے کہ اس کے اپنے ہی گھر کے دروازے دشمن کے لیے کھل رہے ہیں۔ اسرائیل کا خوف اتنا بڑھ گیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی بقا کے لیے اپنی شناخت بیچنے پر مجبور ہیں۔ جب تک یہ خوف دل سے نہیں نکلے گا، مسلم امہ یونہی بکھری رہے گی۔ اور جب تک حکمران اپنی زمین امریکہ اسر...

۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ دہائیوں سے وعدے کیے گئے، قراردادیں پاس ہوئیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے ہمیشہ اوپر سے مسلط کیے جاتے رہے۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں۔ ان کے وسائل، بجلی، معدنیات اور پانی پر دوسروں کا کنٹرول ہے جبکہ مقامی آبادی روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو ترستی ہے۔ ہر الیکشن کے بعد نعرے بدلتے ہیں، مگر پالیسی وہی رہتی ہے۔ طاقتور مافیا نے زمینوں، ٹھیکوں اور وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اصل باشندے تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ادھر کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کشمیریوں کی رائے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شناخت، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے گئے۔ باہر سے آنے والے مافیا گروپ معیشت، زمین اور سیاست پر حاوی ہیں۔ مقامی نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہے۔دونوں خطوں کا مسئلہ ایک ہے: حقدار کو حق نہیں مل رہا۔ جب تک فیصلے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کریں گے ...

گلگت بلتستان اور کشمیر، اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا! مسعود حسین جعفری

Image
گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ رائے کو کھلم کھلا روندا جا رہا ہے یہ محرومی اتفاق نہیں یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ذمہ دار کون؟ وفاقی اشرافیہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز جنہوں نے دونوں خطوں کو ہمیشہ سودے بازی کا مال سمجھا۔ وعدے کیے، قراردادیں توڑیں، اور آئینی حیثیت کو لٹکایا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج تک مکمل آئینی صوبہ بنانے سے انکار اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کچلنا ان کی پالیسی کا ثبوت ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی جنہوں نے ہر الیکشن ہر احتجاج اور ہر مطالبے کو اپنے اشاروں پر نچایا مقامی نمائندے صرف کٹھ پتلی ہیں اصل اختیارات ہمیشہ غیر مقامی افسران اور اداروں کے پاس رہے۔مقامی مافیا گروپ زمین مافیا، ٹھیکہ مافیا اور معدنیات مافیا جو اشرافیہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ مل کر وسائل لوٹے گلگت کی زمینیں کشمیر کے جنگلات اور دریا آج ان کی جاگیر بن چکے ہیں مقامی نوجوان کو روزگار نہیں صرف مایوسی ملی۔نتیجہ یہ نکلا...

بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے، خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ جب پاکستان IMF سے بیل آؤٹ پیکج لیتا ہے، جیسے $3 ارب یا $7 ارب کا پروگرام، تو IMF کہتا ہے پیسے دوں گا، لیکن پہلے تمہاری معیشت ٹھیک کرو۔ وہ شرائط بجٹ پر لگتی ہیں - جیسے سبسڈی کم کرو، ٹیکس بیس بڑھاؤ، خسارہ کم کرو۔ ورنہ قسط روک دیتے ہیں۔عالمی ساکھ World Bank والے پروجیکٹ لون دیتے ہیں  سڑکیں، بجلی، تعلیم کے لیے۔ وہ بھی بجٹ میں شفافیت اور مخصوص ہدف مانگتے ہیں۔ڈالر کا مسئلہ ہمارے پاس ڈالر کم ہیں تیل، گندم، دوائیں باہر سے خریدنی ہیں IMF کے بغیر ڈالر نہیں ملتے، روپیہ گرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے تو مجبوراً ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔گھر آپ کا ہے، خرچے آپ کی مرضی۔ لیکن اگر آپ نے بینک سے قرض لیا ہوا ہے تو بینک کہے گا "غیر ضروری خرچہ بند کرو، پہلے قسط دو"۔ IMF بھی وہی بینک ہے، بس پیمانہ پورے ملک کا ہے۔تو تکنیکی طور پر بجٹ اندرونی ہے، لیکن عملی طور پر جب تک ہم قرض میں ہیں، IMF کی رضامندی کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ہر سال $60 ارب+ کی امپورٹ کرتا ہے۔ تیل، L...

گلگت بلتستان میں ن لیگ، زرداری لیگ اور ان کے مالکان کی ساری منصوبہ بندی چوپٹ! مسعود حسین جعفری

Image
گلگت بلتستان میں ن لیگ، زرداری لیگ اور ان کے مالکان کی ساری منصوبہ بندی چوپٹ۔گلگت بلتستان ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ زبردستی کی سیاست یہاں نہیں چلتی۔ ن لیگ، زرداری لیگ پردے کے پیچھے بیٹھے مالکان سے مل کر جس پلان پر مہینوں محنت کی تھی، وہ عوام کی مزاحمت کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔پہلے مرحلے میں دونوں جماعتوں نے اسلام آباد سے ہدایات لے کر مقامی قیادت کو خریدنے، نوٹس بانٹنے اور دباؤ کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوش کی۔ وفاق سے آنے والے وزرا نے ترقیاتی فنڈز اور عہدوں کا لالچ دیا، جبکہ انتظامی مشینری کو مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت بیک ڈور میٹنگز، کالز اور دھمکیوں کا سہارا لیا تاکہ الیکشن سے پہلے ہی میدان صاف کر لیا جائے۔لیکن گلگت بلتستان کے لوگوں نے 2015 اور 2020 کا حساب ابھی تک بھولا نہیں۔ یہاں کے نوجوان، طلبہ، تاجر اور عام شہری سوشل میڈیا پر متحد ہوئے اور ہر اس اقدام کو بے نقاب کیا جس کا مقصد عوامی مینڈیٹ چوری کرنا تھا۔ جلسے جلوسوں میں واضح پیغام دیا گیا کہ اب "سیلیکشن" نہیں، صرف "الیکشن" قابل قبول...

ٹینکرز مافیا کی سرپرستی کرنے والے کون ہیں ؟ مسعود حسین جعفری

Image
سندھ میں پانی کا بحران قدرتی نہیں یہ ایک منظم ڈکیتی ہے۔ اس ڈکیتی کا نام ٹینکر مافیا ہے اور اس کے سرپرست اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔پانی کی لائنیں خشک کی جاتی ہیں واٹر بورڈ کے افسران جان بوجھ کر مین لائنیں بند رکھتے ہیں۔ پورے پورے محلے مہینوں پانی کو ترستے ہیں۔ٹینکر مافیا کو مالی فوائد پہچانے کے لیے سندھ حکومت مصنوعی قلت پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ہے جب پائپ میں پانی نہیں آئے گا تو عوام مجبور ہو کر ٹینکر مانگے گی۔ یہ مافیا ریٹ خود طے کرتی ہے 1200 گیلن کا ٹینکر جس کی اصل لاگت 800 روپے ہے، وہ 4000 سے 8000 روپے میں بیچا جاتا ہے غریب کی جیب سے روزانہ کروڑوں نکل رہے ہیں۔ٹینکر مافیا اکیلا نہیں چل سکتا اس کے پیچھے طاقتور سرپرستوں کا نیٹ ورک ہے۔ واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران یہ لوگ والو بند کرتے ہیں ہائیڈرنٹ پر غیرقانونی کنکشن دیتے ہیں اور مافیا سے حصہ لیتے ہیں تبادلے اور پوسٹنگ کی نیلامی لگتی ہے۔مقامی سیاسی وڈیرے ہر علاقے کا سردار ٹینکرز کا ٹھیکہ لیتا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کس گلی کو پانی ملے گا اور کس کو نہیں پولیس اور انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہوتی ہے اقتدار کے قریبی ٹھیکیدار 20 سال سے جن کے ...

واٹر بورڈ کا ظالمانہ رویہ، پانی کی لائنیں خشک، شہر کا شہر پیاسا! مسعود حسین جعفری

Image
سندھ پر زرداری مافیا کا قبضہ 20 سال پر محیط ہے۔ دو دہائیوں میں یہ گروہ اقتدار، ٹھیکوں اور وسائل پر مکمل قابض رہا۔ نتیجہ؟ کراچی کی سڑکیں کھنڈرات، حیدرآباد کی لائنیں خشک، لاڑکانہ میں گٹر کے جوہڑ۔ شہر کے شہر پیاسے ہیں۔ پانی کا مسئلہ صرف مسئلہ نہیں، یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ K-IV منصوبہ 15 سال سے فائل میں سڑ رہا ہے۔ S-III کا نام سن کر عوام تھک چکے ہیں۔ واٹر بورڈ، KMC، واسا، یہ سب ادارے عوام کی خدمت کے بجائے کمیشن، رشوت اور ٹینکر مافیا کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔ ٹیکس ہر ماہ بل کی صورت میں وصول ہوتا ہے، بدلے میں گندا پانی، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ، اور ٹوٹی سڑکیں ملتی ہیں۔20 سال میں اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ کیے گئے۔ ہر منصوبے کے نیچے کمیشن کی لکیر کھنچی گئی۔ اسپتالوں میں دوا نہیں، اسکولوں میں استاد نہیں، لیکن زرداری مافیا کے اثاثے دبئی، لندن اور یورپ کی جائیدادوں میں بڑھتے گئے۔ ادارے مکمل طور پر مفلوج کر دیے گئے۔ جو افسر کام مانگے، اس کا تبادلہ۔ جو سوال کرے، اس کی فائل دبا دی جاتی ہے۔شہری کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ ماں اپنے بچے کے لیے پانی کی بالٹی بھرنے کے لیے رات 2 بجے اٹھتی ہے۔ نوجوان روزگار کے لیے در کی...

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری

Image
سندھ پر قابض مافیا کی 20 سالہ حکمرانی، پانی کا عذاب۔سندھ پر زرداری مافیا کی حکمرانی کو دو دہائیاں بیت چکی ہیں۔ 20 برس کا عرصہ کسی بھی شہر کو پیرس بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے، لیکن کراچی سے سکھر تک، حیدرآباد سے لاڑکانہ تک شہری آج بھی پانی کی ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ ٹینکر مافیا راج کر رہا ہے، لائنیں خشک ہیں، اور غریب ماں بچے کی بالٹی لیے گھنٹوں کھڑی رہتی ہے۔ اتنی طویل مدت میں ترقیاتی منصوبے صرف فائلوں اور اشتہاروں تک محدود رہے۔ K-IV، S-III جیسے منصوبے بار اعلان ہوئے مگر زمین پر کچھ نہ بدلا۔ کے الیکٹرک، واٹر بورڈ، KMC سمیت تمام ادارے شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے عذاب بن چکے ہیں۔ لوڈشیڈنگ، گٹر ابلتے ہیں، سڑکیں ٹوٹی ہیں، اور ہر دفتر میں سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا۔ ٹیکس پورا، سہولت صفر۔ 20 سال میں اربوں روپے کے فنڈز آئے، منصوبے بنے، کمیشن کٹے۔ شہر کے مسائل جوں کے توں۔ پینے کا صاف پانی، نکاسی کا نظام، ٹوٹ پھوٹ کا شکار انفراسٹرکچر، یہ بنیادی چیزیں بھی فراہم نہ ہو سکیں۔ سوال یہ نہیں کہ پیسہ کہاں گیا، سوال یہ ہے کہ جواب دہی کب ہوگی؟ اب سوال اٹھتا ہے کیا زرداری مافیا کا خاتمہ صرف وسیع پیمانے پر خ...