کشمیر جل رہا ہے اور چند ہوس پرست اقتدار کی ہولی کھیل رہے ہیں! مسعود حسین جعفری
آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ اور زرداری لیگ اپنی اقتدار کی بھوک میں کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ کشمیر کے عوام دہائیوں سے حق خودارادیت، مہنگائی، آٹے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناپاک ہتھکنڈوں سے اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوش کی۔ن لیگ نے ہمیشہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلے تو اس کی مقامی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بہتر سمجھا۔ پولیس اور انتظامیہ کو آگے کر کے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، اور میڈیا پر پابندیاں لگا کر اصل صورتحال چھپانے کی کوش ہوئی۔ دوسری طرف زرداری لیگ نے بھی ماضی کی طرح موقع پرستی کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف بیانات میں کشمیریوں سے ہمدردی کے دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کی خاطر اسی مکاری چالبازی بندوق کے ذریعے عوامی تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا۔ دونوں جماعتوں نے کشمیر کے اندر اپنی اپنی گروپ بندیوں کو فنڈز اور سرکاری مشینری دی تاکہ اصل عوامی نمائندوں کی آواز دبائی جا سکے۔ اس ٹکراؤ میں کئی بے گناہ کشمیری زخمی ہوئے اور کچھ جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ یہ خون دونوں جماعتوں کی اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ طاقتوروں نے ان دونوں کو کھلی سپورٹ دی۔ جس مقصد کے لیے کشمیر بنا تھا، یعنی عوام کی مرضی، اسے پس پشت ڈال کر اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے ان جماعتوں کو شیلٹر فراہم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کشمیری یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر اسلام آباد لاہور لاڑکانہ کی جماعتیں ہی ہمارے خون سے ہولی کھیلیں گی تو پھر فرق کیا رہ گیا؟ کشمیر کے لوگ اب شعور رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک ن لیگ اور زرداری لیگ جیسی روایتی جماعتیں کشمیر کو صرف سیٹوں اور وزارتوں کی منڈی سمجھیں گی، اور جب تک طاقتوروں کی طرف سے ان کو بیساکھیاں ملتی رہے گی، تب تک کشمیریوں کے زخم نہیں بھریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کشمیری خود کریں، نہ کہ اسلام آباد کی کسی ڈیل کے تحت۔

Comments
Post a Comment
Any