وزیر داخلہ نے آئینہ دکھا دیا،اب کون جواب دے گا؟ مسعود حسین جعفری
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ حکمرانی کے بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نقوی نے اپنے بیان میں موجودہ حکومت کی کارکردگی، عوامی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سیاسی گلیاروں میں فوری مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی اس بیان کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت الفاظ کسی ذمہ دار وفاقی وزیر سے سامنے آنے کے بعد اداروں میں گھبراہٹ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست کے اندر پالیسی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ اور زرداری لیگ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا پر ایک دوسرے کا دفاع کرتے نظر آئے، لیکن اندرون خانہ اجلاسوں میں حکومت کے مستقبل اور اتحادی ڈھانچے پر کھلی بحث ہوئی۔ پارٹی کارکن بھی سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال کے بعد اب حکومت کے پاس عوام کو جواب دینے کے لیے کیا بچا ہے۔عوام کا ردعمل سب سے سخت ہے۔ مختلف شہروں میں عام شہریوں، وکلا، تاجروں اور طلبہ کی گفتگو میں یہی بات سنائی دے رہی ہے کہ موجودہ سیٹ اپ عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے اور اب حکومت میں رہنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا۔ لوگ سڑکوں پر مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب حکومت کے اپنے وزراء ہی مایوسی کا اظہار کریں تو پھر تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔مجموعی طور پر محسن نقوی کے بیان نے اس بحث کو ہوا دے دی ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، اور اگلے چند دن سیاسی طور پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment
Any