غیر آئینی و غیر قانونی وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات! مسعود حسین جعفری
وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات۔وفاقی غیر آئینی و غیر قانونی حکومت عوام پر زبردستی بجٹ تھوپنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ بجٹ مشاورت، شفافیت اور عوامی مفاد کے بغیر تیار کیا گیا، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پوری قوم محسوس کرے گی۔ مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور سبسڈیز کا خاتمہ عام آدمی کی قوت خرید کو براہ راست متاثر کرے گا۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط طبقہ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اب اس پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ایسے یکطرفہ فیصلوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے، کاروبار سست پڑتے ہیں اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر وہ طبقات ہیں جو اس پالیسی کی قیمت سب سے زیادہ ادا کریں گے۔جب فیصلے ایوانوں میں عوام کی آواز سنے بغیر کیے جائیں تو ملک و قوم کا نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔ یہ لوگ کسی صورت ملک و قوم سے مخلص نہیں، کیونکہ مخلص قیادت ہمیشہ عوام کو ساتھ لے کر چلتی ہے، ان پر فیصلے نہیں تھوپتی۔

Comments
Post a Comment
Any