زرداری لیگ کی جبری حکمرانی نامنظور،کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گے! مسعود حسین جعفری
آزاد کشمیر کے عوام آج ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ کشمیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی جبری سیاست کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی زبردستی کی ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ مقامی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر فیصلے اسلام آباد سے مسلط کیے جائیں، اور کشمیریوں کی نمائندہ آواز کو دبایا جائے۔ کشمیریوں کا موقف ہے کہ ان کے وسائل، خودمختاری اور سیاسی فیصلوں پر پہلے ہی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک نئی سازش کے تحت کشمیری پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حاشیے پر دھکیل کر ایک ہی جماعت کی اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب کشمیر کے اندر جمہوری جماعتیں موجود ہیں تو باہر سے مسلط کردہ قیادت کی کیا ضرورت ہے؟ بلاول پر الزام ہے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق غضب کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈکٹیٹ کیے گئے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری خود طے کریں، نہ کہ بیرونی دباؤ یا ذاتی اقتدار کی خواہش پر۔

Comments
Post a Comment
Any