Posts

Showing posts from August, 2026

تمغہ امتیاز کی بندر بانٹ، ایک افسوسناک باب، مسعود حسین جعفری

Image
تمغہ امتیاز ریاست کا وہ اعزاز ہے جو قربانی، علم، فن اور وطن سے وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ تمغہ میرٹ کے بجائے سفارش، تعلق اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر بانٹا جائے تو یہ اعزاز نہیں رہتا بلکہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو تقسیم ہوئی اس نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان عناصر کو تمغوں سے نوازا گیا جن کا ماضی داغدار رہا۔ وہ لوگ جن کے فیصلوں سے وطن عزیز کو معاشی، سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا، جن کی پالیسیوں سے ادارے کمزور ہوئے اور عوام کا اعتماد گرا، آج سینے پر تمغے سجائے قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب تاریخ کے مجرموں کو ہیرو بنا دیا جائے تو نئی نسل کیا سبق سیکھے گی؟ یہ عمل نہ صرف تمغہ امتیاز کی ناقدری ہے بلکہ اس ادارے کی بے عزتی ہے جس کے نام پر یہ دیا جاتا ہے۔ اس منظر پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔اس سے بھی بڑا المیہ تعصبی رویہ ہے جو اس تقریب میں عیاں ہوا۔ دیگر صوبوں کی خدمات، قربانیاں اور صلاحیتیں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے ایسے نام تھے جو اس اعزاز کے اصل حقدار تھے، مگر فہرست میں انہیں جگہ نہ ...

کراچی کی سب سے بڑی جماعت... اب خود انتشار کا شکار، مسعود حسین جعفری

Image
ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اصل چپقلش بنیادی طور پر دو دھاروں کے درمیان ہے: ایک طرف "بانی ایم کیو ایم" کے بیانیے سے جڑے کارکن، دوسری طرف بہادر آباد قیادت جو ریاستی اداروں اور موجودہ سیاسی نظام کے ساتھ بقا کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ اختلافات پھر سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ کراچی کی بلدیاتی نمائندگی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر کسی ایک مرکز کا کنٹرول نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مزید دھڑے بندی کا جواز بنایا جائے گا؟ اگر قیادت کسی متفقہ بیانیے پر نہیں آتی تو کارکنوں کی وفاداریاں تقسیم ہوتی رہیں گی۔ بہادر آباد گروپ عملی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ لندن سے بیانیہ اب بھی جذباتی ووٹ بینک کو متحرک کرتا ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور نئی مقامی جماعتیں کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اندرونی لڑائی سے پارٹی کا انتخابی اثر کم ہو گا، خاص کر نوجوان ووٹر متبادل تلاش کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اتحادی دونوں چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک پلیٹ...

وزیر داخلہ نے آئینہ دکھا دیا،اب کون جواب دے گا؟ مسعود حسین جعفری

Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ حکمرانی کے بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نقوی نے اپنے بیان میں موجودہ حکومت کی کارکردگی، عوامی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سیاسی گلیاروں میں فوری مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی اس بیان کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت الفاظ کسی ذمہ دار وفاقی وزیر سے سامنے آنے کے بعد اداروں میں گھبراہٹ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست کے اندر پالیسی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ اور زرداری لیگ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا پر ایک دوسرے کا دفاع کرتے نظر آئے، لیکن اندرون خانہ اجلاسوں میں حکومت کے مستقبل اور اتحادی ڈھانچے پر کھلی بحث ہوئی۔ پارٹی کارکن بھی سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال کے بعد اب حکوم...

اقتدار پرستوں کا آخری ہتھیار، کشمیریوں کا خون! مسعود حسین جعفری

Image
ن لیگ اور زرداری لیگ کا اصل چہرہ اب کشمیریوں کے سامنے کھل چکا ہے۔ برسوں تک یہ اقتدار پرست جماعتیں کشمیر کے نام پر تقریں کرتی رہیں، قراردادوں کے وعدے کرتی رہیں، لیکن عملی طور پر کشمیر کو بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی طرح ایک جاگیر سمجھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد کشمیریوں کے حقوق نہیں تھے، مقصد صرف اسلام آباد اور لندن میں بیٹھ کر کرسیاں بچانا تھا۔کشمیری قوم نے بہت صبر کیا۔ انہوں نے ان کے جھوٹے بیانیے، فوٹو سیشن اور خالی نعرے دیکھے۔ جب کشمیریوں نے سوال کیا کہ ہمارے زخموں کا مداوا کب ہوگا، ہمارے شہیدوں کے قاتل کب پکڑے جائیں گے، ہمارے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا تو ان اقتدار پرستوں کے پاس جواب نہیں تھا۔ کشمیریوں نے جب انکار کیا، جب مسترد کر دیا، تو ان کے اصل مکروہ چہرے سامنے آ گئے۔مکالمے کی بجائے دھمکی، سیاست کی بجائے طاقت اور دلیل کی بجائے گولی کو ہتھیار بنایا گیا۔ جن لوگوں نے جمہوریت کا لیکچر دیا تھا وہی آج کشمیریوں پر بندوق تان رہے ہیں۔ جنہوں نے خود کو عوام کا خادم کہا تھا وہی آج کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہے ہیں۔لیکن کشمیری ثابت قدم ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کی سرزمین نے ہم...