Posts

By: Masood Hussain Jaffri

تمغہ امتیاز کی بندر بانٹ، ایک افسوسناک باب، مسعود حسین جعفری

Image
تمغہ امتیاز ریاست کا وہ اعزاز ہے جو قربانی، علم، فن اور وطن سے وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ تمغہ میرٹ کے بجائے سفارش، تعلق اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر بانٹا جائے تو یہ اعزاز نہیں رہتا بلکہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو تقسیم ہوئی اس نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان عناصر کو تمغوں سے نوازا گیا جن کا ماضی داغدار رہا۔ وہ لوگ جن کے فیصلوں سے وطن عزیز کو معاشی، سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا، جن کی پالیسیوں سے ادارے کمزور ہوئے اور عوام کا اعتماد گرا، آج سینے پر تمغے سجائے قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ جب تاریخ کے مجرموں کو ہیرو بنا دیا جائے تو نئی نسل کیا سبق سیکھے گی؟ یہ عمل نہ صرف تمغہ امتیاز کی ناقدری ہے بلکہ اس ادارے کی بے عزتی ہے جس کے نام پر یہ دیا جاتا ہے۔ اس منظر پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔اس سے بھی بڑا المیہ تعصبی رویہ ہے جو اس تقریب میں عیاں ہوا۔ دیگر صوبوں کی خدمات، قربانیاں اور صلاحیتیں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے ایسے نام تھے جو اس اعزاز کے اصل حقدار تھے، مگر فہرست میں انہیں جگہ نہ ...

کراچی کی سب سے بڑی جماعت... اب خود انتشار کا شکار، مسعود حسین جعفری

Image
ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اصل چپقلش بنیادی طور پر دو دھاروں کے درمیان ہے: ایک طرف "بانی ایم کیو ایم" کے بیانیے سے جڑے کارکن، دوسری طرف بہادر آباد قیادت جو ریاستی اداروں اور موجودہ سیاسی نظام کے ساتھ بقا کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ اختلافات پھر سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ کراچی کی بلدیاتی نمائندگی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر کسی ایک مرکز کا کنٹرول نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مزید دھڑے بندی کا جواز بنایا جائے گا؟ اگر قیادت کسی متفقہ بیانیے پر نہیں آتی تو کارکنوں کی وفاداریاں تقسیم ہوتی رہیں گی۔ بہادر آباد گروپ عملی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ لندن سے بیانیہ اب بھی جذباتی ووٹ بینک کو متحرک کرتا ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور نئی مقامی جماعتیں کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اندرونی لڑائی سے پارٹی کا انتخابی اثر کم ہو گا، خاص کر نوجوان ووٹر متبادل تلاش کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اتحادی دونوں چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک پلیٹ...

وزیر داخلہ نے آئینہ دکھا دیا،اب کون جواب دے گا؟ مسعود حسین جعفری

Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ حکمرانی کے بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نقوی نے اپنے بیان میں موجودہ حکومت کی کارکردگی، عوامی مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔ بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سیاسی گلیاروں میں فوری مشاورتیں شروع ہو گئیں۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی اس بیان کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت الفاظ کسی ذمہ دار وفاقی وزیر سے سامنے آنے کے بعد اداروں میں گھبراہٹ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست کے اندر پالیسی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ اور زرداری لیگ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ترجمان میڈیا پر ایک دوسرے کا دفاع کرتے نظر آئے، لیکن اندرون خانہ اجلاسوں میں حکومت کے مستقبل اور اتحادی ڈھانچے پر کھلی بحث ہوئی۔ پارٹی کارکن بھی سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال کے بعد اب حکوم...

اقتدار پرستوں کا آخری ہتھیار، کشمیریوں کا خون! مسعود حسین جعفری

Image
ن لیگ اور زرداری لیگ کا اصل چہرہ اب کشمیریوں کے سامنے کھل چکا ہے۔ برسوں تک یہ اقتدار پرست جماعتیں کشمیر کے نام پر تقریں کرتی رہیں، قراردادوں کے وعدے کرتی رہیں، لیکن عملی طور پر کشمیر کو بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی طرح ایک جاگیر سمجھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد کشمیریوں کے حقوق نہیں تھے، مقصد صرف اسلام آباد اور لندن میں بیٹھ کر کرسیاں بچانا تھا۔کشمیری قوم نے بہت صبر کیا۔ انہوں نے ان کے جھوٹے بیانیے، فوٹو سیشن اور خالی نعرے دیکھے۔ جب کشمیریوں نے سوال کیا کہ ہمارے زخموں کا مداوا کب ہوگا، ہمارے شہیدوں کے قاتل کب پکڑے جائیں گے، ہمارے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا تو ان اقتدار پرستوں کے پاس جواب نہیں تھا۔ کشمیریوں نے جب انکار کیا، جب مسترد کر دیا، تو ان کے اصل مکروہ چہرے سامنے آ گئے۔مکالمے کی بجائے دھمکی، سیاست کی بجائے طاقت اور دلیل کی بجائے گولی کو ہتھیار بنایا گیا۔ جن لوگوں نے جمہوریت کا لیکچر دیا تھا وہی آج کشمیریوں پر بندوق تان رہے ہیں۔ جنہوں نے خود کو عوام کا خادم کہا تھا وہی آج کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہے ہیں۔لیکن کشمیری ثابت قدم ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کی سرزمین نے ہم...

کشمیر جل رہا ہے اور چند ہوس پرست اقتدار کی ہولی کھیل رہے ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ اور زرداری لیگ اپنی اقتدار کی بھوک میں کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ کشمیر کے عوام دہائیوں سے حق خودارادیت، مہنگائی، آٹے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناپاک ہتھکنڈوں سے اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوش کی۔ن لیگ نے ہمیشہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلے تو اس کی مقامی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بہتر سمجھا۔ پولیس اور انتظامیہ کو آگے کر کے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، اور میڈیا پر پابندیاں لگا کر اصل صورتحال چھپانے کی کوش ہوئی۔ دوسری طرف زرداری لیگ نے بھی ماضی کی طرح موقع پرستی کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف بیانات میں کشمیریوں سے ہمدردی کے دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کی خاطر اسی مکاری چالبازی بندوق کے ذریعے عوامی تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا۔ دونوں جماعتوں نے کشمیر کے اندر اپنی اپنی گروپ بندیوں کو فنڈز اور سرکاری مشینری دی تاکہ اصل عوامی نمائندوں کی آواز دبائی جا سکے۔ اس ٹکراؤ...

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

Image
ایران کے عرب ممالک میں قائم اسرائیلی اڈوں پر حملے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کا توازن بدل رہے ہیں۔ اس سے خطے میں نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے اور ہر ملک کو اپنا موقف واضح کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ کرپٹ عناصر اس لیے بے چین ہیں کیونکہ ان کے مفادات بیرونی طاقتوں اور خلیجی سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے ماضی میں دوغلی پالیسی اپنائی: ایک طرف عوام کے سامنے مزاحمت اور خودمختاری کی بات، دوسری طرف پردے کے پیچھے ایسے معاہدے اور تعلقات جو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی فائدے کے لیے تھے۔ جب ایران کھل کر اسرائیلی موجودگی کو نشانہ بناتا ہے تو یہ دوغلا بیانیہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اس بے نقابی سے دو نقصان ہوتے ہیں۔ پہلا، ان کے بیرونی سرپرست ناراض ہوتے ہیں اور فنڈنگ یا ویزے بند ہونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا، عوام کو سچ نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھتے ہیں کہ پالیسی کیا ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے ملک و قوم میں نفرت پھیل رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیادت اصولوں پر نہیں، مفادات پر فیصلے کر رہی ہے۔ جب عوام کو لگے کہ حکمران دباؤ میں آ کر قوم کے جذبات بیچ رہے ہیں تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور مایوسی نفرت میں بدل جاتی ہے۔

زرداری لیگ کی جبری حکمرانی نامنظور،کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گے! مسعود حسین جعفری

Image
آزاد کشمیر کے عوام آج ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ کشمیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی جبری سیاست کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی زبردستی کی ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ مقامی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر فیصلے اسلام آباد سے مسلط کیے جائیں، اور کشمیریوں کی نمائندہ آواز کو دبایا جائے۔ کشمیریوں کا موقف ہے کہ ان کے وسائل، خودمختاری اور سیاسی فیصلوں پر پہلے ہی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک نئی سازش کے تحت کشمیری پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حاشیے پر دھکیل کر ایک ہی جماعت کی اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب کشمیر کے اندر جمہوری جماعتیں موجود ہیں تو باہر سے مسلط کردہ قیادت کی کیا ضرورت ہے؟ بلاول پر الزام ہے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق غضب کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈکٹیٹ کیے گئے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مس...