ٹینکرز مافیا کی سرپرستی کرنے والے کون ہیں ؟ مسعود حسین جعفری
سندھ میں پانی کا بحران قدرتی نہیں یہ ایک منظم ڈکیتی ہے۔ اس ڈکیتی کا نام ٹینکر مافیا ہے اور اس کے سرپرست اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔پانی کی لائنیں خشک کی جاتی ہیں واٹر بورڈ کے افسران جان بوجھ کر مین لائنیں بند رکھتے ہیں۔ پورے پورے محلے مہینوں پانی کو ترستے ہیں۔ٹینکر مافیا کو مالی فوائد پہچانے کے لیے سندھ حکومت مصنوعی قلت پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ہے جب پائپ میں پانی نہیں آئے گا تو عوام مجبور ہو کر ٹینکر مانگے گی۔ یہ مافیا ریٹ خود طے کرتی ہے 1200 گیلن کا ٹینکر جس کی اصل لاگت 800 روپے ہے، وہ 4000 سے 8000 روپے میں بیچا جاتا ہے غریب کی جیب سے روزانہ کروڑوں نکل رہے ہیں۔ٹینکر مافیا اکیلا نہیں چل سکتا اس کے پیچھے طاقتور سرپرستوں کا نیٹ ورک ہے۔ واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران یہ لوگ والو بند کرتے ہیں ہائیڈرنٹ پر غیرقانونی کنکشن دیتے ہیں اور مافیا سے حصہ لیتے ہیں تبادلے اور پوسٹنگ کی نیلامی لگتی ہے۔مقامی سیاسی وڈیرے ہر علاقے کا سردار ٹینکرز کا ٹھیکہ لیتا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کس گلی کو پانی ملے گا اور کس کو نہیں پولیس اور انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہوتی ہے اقتدار کے قریبی ٹھیکیدار 20 سال سے جن کے پاس KMC، واٹر بورڈ کے ٹھیکے ہیں وہی ٹینکرز کے مالک ہیں۔ سرکاری پانی چوری کر کے عوام کو مہنگا بیچتے ہیں۔ افسر، پولیس، سیاستدان سب کو حصہ جاتا ہے۔کراچی میں 500 سے زائد غیرقانونی ہائیڈرنٹ چل رہے ہیں یہ سب واٹر بورڈ کی ناک کے نیچے چھاپہ پڑتا ہے 2 دن بند پھر پہلے سے زیادہ تیزی سے شروع۔ کیونکہ اوپر سے "این او سی" آ چکی ہوتی ہے۔غریب 200 روپے فی بالٹی پانی خریدتا ہے امیر اپنے گھر بورنگ لگوا لیتا ہے اور درمیان میں زرداری مافیا کا ٹینکر مافیا ہر روز کروڑوں کماتا ہے پانی بیچ کر۔20 سال میں یہ مافیا اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ واٹر بورڈ خود اس کا ملازم لگتا ہے۔ جب تک سرپرستوں کے ہاتھ نہیں توڑے جائیں گے، سندھ کا شہری پانی کو ترستا رہے گا۔

Comments
Post a Comment
Any