Posts

Showing posts from April, 2026

اربوں کھربوں روپے وصولی کے باوجود قرض کا پہاڑ، انرجی کا بحران، آخر پیسہ جا کہاں رہا ہے ؟ مسعود حسین جعفری

Image
یہ پاکستانی عوام کا سب سے تکلیف دہ سوال ہے۔ پانی، بجلی، گیس کی بندش کے باوجود بل اربوں میں وصول ہوتے ہیں، مگر سسٹم پھر بھی خسارے میں ہے۔ وجہ؟ بجلی چوری، غیر قانونی کنکشن، اور بوسیدہ ترسیلی نظام میں 20-30% بجلی ضائع۔ اس کا بوجھ بھی بل دینے والے اٹھاتے ہیں۔حکومت ڈسکوز کو پوری ادائیگی نہیں کرتی، وہ IPPs کو نہیں دے پاتیں، اور قرض کا پہاڑ بڑھتا جاتا ہے۔ 2026 میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.6 ٹریلین روپے سے اوپر جا چکا ہے۔ناقص گورننس + سبسڈی سیاسی بنیادوں پر سبسڈی، اوور بلنگ، اور اداروں میں کرپشن۔ وصول شدہ رقم کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کا سود، نااہل پلانٹس کیپیسٹی پیمنٹس، اور افسر شاہی کھا جاتی ہے۔جو پیسہ آتا ہے وہ نئے منصوبوں یا سسٹم بہتری پر لگنے کے بجائے خسارہ پورا کرنے میں لگ جاتا ہے۔ پھر بھی وصولیاں پابندی سے جاری ہیں تو اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ سود، چوری، نااہلی اور کرپشن کے بلیک ہول میں سروس دینے کے لیے پیسہ بچتا ہی نہیں، اسی لیے بندش بھی ہے اور قرضہ بھی بڑھ رہا ہے۔یہ بحران تکنیکی سے زیادہ انتظامی اور اخلاقی ہے۔

ایران میزائل صلاحیت میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل! مسعود حسین جعفری

Image
دفاعی ضروریات پر کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں یہ بیان ایران کے سرکاری میڈیا میں سامنے آیا ہے۔ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتیں اور تجربات آزاد ممالک خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم SCO کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ طلائی نیک نے ہفتے کے روز یہ بات کہی۔ اسی بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت کا اہم حصہ ابھی استعمال نہیں ہوا اور ملک کی ہتھیار سازی مکمل طور پر ملکی پیداواری لائن پر مبنی ہے۔یہ بیان چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں SCO وزرائے دفاع کے سالانہ اجلاس کے وقت سامنے آیا۔ اس اجلاس میں ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ اور روس کے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے شرکت کی۔ چین نے اس اجلاس کو یکطرفہ پسندی اور غنڈہ گردی کے خلاف SCO ممالک کے تعاون کو بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔طلائی نیک نے زور دیا کہ ایران اب میزائل صلاحیت میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے اور دفاعی ضروریات پر کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی 60% فوجی سازوسامان اب نجی شعبہ اور نالج بیسڈ کمپنیاں بنا رہی ...

اصولاً پاکستان کے لیے تشویش کم، موقع زیادہ ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
امریکہ اور اسرائیل کو واضح تشویش ہے روس ایران کو سپورٹ کر رہا ہے ایران اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 27 اپریل 2026 کو ماسکو پہنچے اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ عباس عراقچی نے ایرانی سپریم لیڈر کا خصوصی پیغام پیوٹن کو پہنچایا۔یوٹن نے کہا کہ روس وہ سب کچھ کرے گا جو ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے مفاد میں ہو ایجنڈا جنگ بندی، علاقائی پیش رفت، اور مذاکرات کی تازہ صورتحال، عباس عراقچی اس سے پہلے پاکستان میں فعاصم منیر سے بھی ملے تھے، اور ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو جنگ ختم کرنے کی شرائط پہنچائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ، اسرائیل اور پاکستان کو تشویش ہے؟ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب ایران-اسرائیل کشیدگی عروج پر ہے۔  روس ایران گہرا فوجی تعاون امریکہ اور اسرائیل کے لیے ریڈ فلیگ ہے۔اسرائیل کو ڈر ہے کہ روس ایران کو سفارتی کور یا ہتھیار دے سکتا ہے۔امریکہ کو تشویش ہے کہ روس کی ثالثی سے ایران پر دباؤ کم ہو جائے گا اور پابندیاں غیر مؤثر ہو جائیں گی۔ لیکن پاکستان کے لیے تشویش کم، موقع زیادہ ہیں۔عباس عراقچی ماسکو جانے سے پہلے اسلام آباد آئے...

زبردستی مسلط کردہ عناصر اتحاد میں کھنچاو کی کیفیات ،مسعود حسین جعفری

Image
"فارم 47" کی اصطلاح پاکستان میں 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے سیاسی گفتگو کا حصہ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر PTI اس اصطلاح کو موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے۔موجودہ صورتحال کے 3 اہم پہلو ہیں حکومتی اتحاد میں کھچاؤ، PML-N اور PPP کی مخلوط حکومت ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے دونوں جماعتوں کے درمیان بجٹ، پنجاب میں گورننس، اور آئینی ترامیم پر اختلافات کی خبریں آتی رہی ہیں۔ PPP نے کئی بار اسٹیبلشمنٹ سے علیحدہ لائحہ عمل اپنانے کی بات کی ہے۔خفیہ سازشوں کا بیانیہ، پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی اور اندرونی سازشوں کے چرچے ہمیشہ رہتے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اتحادی ہی آپس میں رابطوں میں ہیں تاکہ پریشر بڑھایا جائے۔ حکومت اسے مسترد کرتی ہے اور اسے سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کہتی ہے۔ کیا رجیم چینج کا امکان ہے؟ آئینی طور پر رجیم چینج کے صرف 2 راستے ہیں 1. وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، 2. اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں نمبر گیم حکومتی اتحاد کے حق میں ہے۔ تحری...

کرپشن بطور نظام: مسعود حسین جعفری

Image
پینے کا صاف پانی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے خواب ہے صحت کا بجٹ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود  اسپتالوں کی حالت بدترین ہے سندھ حکومت کا طویل ترین اقتدار اور عوامی محرومیاں سندھ پر پچھلے تقریباً 20 سال سے مسلسل ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا کسی بھی صوبے میں سب سے طویل بلاتعطل اقتدار ہے۔ مگر اس پورے عرصے میں عام آدمی کی زندگی میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی۔ بنیادی سہولیات کا بحران، کراچی سے لے کر اندرونِ سندھ تک، پینے کا صاف پانی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے خواب ہے۔ سرکاری اسکولوں کی 40% سے زیادہ عمارتیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں، اور اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیں۔ سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، اور ہر مون سون میں شہر دریا بن جاتے ہیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود سڑکیں، پل اور اسکیمیں کاغذوں سے آگے نہیں بڑھتیں۔ کرپشن بطور نظام بنا دیا گیا ہے نیب، ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں سالہا سال سے سندھ کے محکموں میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیاں دکھا رہی ہیں۔  گندم اسکینڈل، پانی کے منصوبوں میں کمیشن، جعلی بھرتیاں، اور ترقیاتی فنڈز کا  احتساب کے ادارے بھی سیاسی مصلحتوں کی ...

کوئی بھی مافیا خود سے نہیں ہٹتی

Image
سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت اور وفاق میں اس کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل بدترین ہیں! مسعود حسین جعفری کراچی کے مسئلے صرف ایک پارٹی یا ایک شخصیت تک محدود نہیں، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت اور وفاق میں اس کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ اس پر عوامی سطح پر شدید تنقید موجود ہے۔ اتنی طاقت و اختیار کے باوجود کراچی کے حالات کیوں خراب ہیں؟ گورننس کا بحران 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ اختیارات صوبے کے پاس ہیں مگر کراچی کے بلدیاتی ادارے مالی اور انتظامی طور پر کمزور رکھے گئے۔ میئر کے پاس کچرا، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی اختیارات بھی پورے نہیں۔ نتیجہ جوابدہی کا فقدان ٹھہرا۔فنڈز اور کرپشن سندھ کا ترقیاتی بجٹ ہر سال کھربوں میں ہوتا ہے، کراچی سے سب سے زیادہ ٹیکس جمع ہوتا ہے، مگر زمین پر کام نظر نہیں آتا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس میں سندھ کے کئی منصوبوں میں بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ K-IV پانی منصوبہ، گرین لائن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے منصوبے سالوں تاخیر اور لاگت بڑھنے کا شکار رہے۔انفراسٹرکچر کی تب...

امن مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران کی شرکت ممکن نہیں! مسعود حسین جعفری

Image
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ٹول ادا کرنے والے کسی بھی جہاز کو روک دیا جائے گا صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم والے مال بردار بحری جہاز _توسکا_ کو اس وقت قبضے میں لے لیا جب اس نے آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی کو چلانے کی کوشش کی۔  ڈسٹرائر USSSpruance نے جہاز کے انجن روم میں اس وقت فائر کیا جب عملے نے رکنے کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا، اور پھر یو ایس میرینز نے سوار ہو کر جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ٹرمپ نے پوسٹ کیا کہ Touska تقریباً 900 فٹ لمبا ہے اور اس پر سابقہ ​​غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے امریکی ٹریژری پابندیوں کے تحت ہے۔ CENTCOM نے چھ گھنٹے کے تعطل اور پروپلشن کو غیر فعال کرنے کے لیے ڈسٹرائر کی 5 انچ بندوق کے استعمال کی تصدیق کی۔  ایران کا جواب میں تہران نے قبضے کو مسلح بحری قزاقی قرار دیا اور متنبہ کیا کہ وہ جلد جوابی کارروائی کرے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایران جاری ناکہ بندی اور ٹرمپ کے نئے فضائی حملوں کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا۔ایران کی فوج نے کہا کہ جہاز چین سے سفر کر رہا تھا اور اس ...

عاصم منیر ایرانی صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ ملاقاتیں! مسعود حسین جعفری

Image
اس پر کافی چرچا ہو رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 16-17 اپریل 2026 کو ایران کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ "امریکا کا نمائندہ" بن کر گئے؟ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یعنی پاکستان باضابطہ طور پر ثالثی/مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے جون 2025 میں عاصم منیر کی ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں ایران-اسرائیل تنازع پر تفصیل سے بات ہوئی۔ امریکا نے بھی پاکستان کو ایران-اسرائیل کشیدہ صورت حال میں مددگار سمجھنا شروع کیا تھا۔ تو کیا یہ ٹرمپ کی چال ہے؟   ابھی تک کی سرکاری پوزیشن یہ ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ ہم ثالث  ہیں، کسی کے نمائندے نہیں۔  آئی ایس پی آر نے واضح کہا کہ یہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ عباس عراقچی نے بھی مذاکراتی عمل کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ کچھ حلقے اسے امریکا-ایران بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ سمجھتے ہیں کی...

100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں، مسعود حسین جعفری

Image
جی ہاں، 15 اپریل 2026 کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں FPCCI کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ پچھلے 3 سے 4 سال میں تقریباً 100 ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یرون ملک جانے والا پیسہ کس طریقے سے گیا اس کے لیے ایک دو بندوں کو کراچی سے اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے بعد سب پتہ چل جائے گا اور تاجروں سے اپیل کی کہ بجٹ سے پہلے کم از کم 10 ارب ڈالر واپس لے آئیں۔سوال یہ ہے کہ حساس اداروں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہوا؟ یہ سوال پاکستان میں اکثر اٹھتا ہے۔ 100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان اور ماضی کے کیسز کو دیکھیں تو 3 بڑے راستے سامنے آتے ہیں۔وزیر داخلہ نے خود کہا کہ منی چینجر کے ذریعے رقوم منتقلی کے چھ سات کیسز پکڑے ہیں۔ ہنڈی/حوالہ کا نظام بینکنگ چینل کو بائی پاس کرتا ہے۔ پیسہ فزیکلی باہر نہیں جاتا بلکہ یہاں کسی ایجنٹ کو روپے دیتے ہیں اور باہر ڈالر لے لیتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اسے 100% مانیٹر کرنا کسی بھی ایجنسی کے لیے ناممکن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ترسیلات کا بڑا حصہ اب ...

منی لانڈرنگ ،رقومات کی منتقلی ،ایک جائزہ

Image
پاکستان میں منی لانڈرنگ اور رشوت کی رقم بیرون ملک منتقلی، ایک جائزہ! مسعود حسین  جعفری پاکستان میں منی لانڈرنگ ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے جس پر قومی اداروں، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور عالمی ادارے جیسے FATF بھی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بدعنوانی سے حاصل کی گئی رقوم کو قانونی شکل دینے یا بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے عام طور پر جو طریقے رپورٹس اور تجزیوں میں سامنے آتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں۔ ہنڈی/حوالہ نظام:یہ سب سے پرانا اور غیر رسمی طریقہ ہے۔ اس میں بینکنگ چینل استعمال کیے بغیر ملک کے اندر رقم ایک ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور بیرون ملک دوسرا ایجنٹ اتنی ہی رقم وصول کنندہ کو ادا کر دیتا ہے۔ کوئی کاغذی ریکارڈ بینکوں میں نہیں آتا، اس لیے ٹریک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ماضی میں اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کی رپورٹس میں اسے منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔تجارتی منی لانڈرنگ (Trade-Based Money Laundering)اس میں درآمدات و برآمدات کی رسیدوں میں ہیر پھیر کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اوور انوائسنگ باہر سے 10 لاکھ ڈالر کا سامان منگوایا مگر کاغذات میں 20 لاکھ ڈالر ظاہر کر کے اضافی رقم بیرون ملک بھجوا دی۔ برآمدا...