اربوں کھربوں روپے وصولی کے باوجود قرض کا پہاڑ، انرجی کا بحران، آخر پیسہ جا کہاں رہا ہے ؟ مسعود حسین جعفری
یہ پاکستانی عوام کا سب سے تکلیف دہ سوال ہے۔ پانی، بجلی، گیس کی بندش کے باوجود بل اربوں میں وصول ہوتے ہیں، مگر سسٹم پھر بھی خسارے میں ہے۔ وجہ؟ بجلی چوری، غیر قانونی کنکشن، اور بوسیدہ ترسیلی نظام میں 20-30% بجلی ضائع۔ اس کا بوجھ بھی بل دینے والے اٹھاتے ہیں۔حکومت ڈسکوز کو پوری ادائیگی نہیں کرتی، وہ IPPs کو نہیں دے پاتیں، اور قرض کا پہاڑ بڑھتا جاتا ہے۔ 2026 میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.6 ٹریلین روپے سے اوپر جا چکا ہے۔ناقص گورننس + سبسڈی سیاسی بنیادوں پر سبسڈی، اوور بلنگ، اور اداروں میں کرپشن۔ وصول شدہ رقم کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کا سود، نااہل پلانٹس کیپیسٹی پیمنٹس، اور افسر شاہی کھا جاتی ہے۔جو پیسہ آتا ہے وہ نئے منصوبوں یا سسٹم بہتری پر لگنے کے بجائے خسارہ پورا کرنے میں لگ جاتا ہے۔ پھر بھی وصولیاں پابندی سے جاری ہیں تو اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ سود، چوری، نااہلی اور کرپشن کے بلیک ہول میں سروس دینے کے لیے پیسہ بچتا ہی نہیں، اسی لیے بندش بھی ہے اور قرضہ بھی بڑھ رہا ہے۔یہ بحران تکنیکی سے زیادہ انتظامی اور اخلاقی ہے۔