کراچی کی سب سے بڑی جماعت... اب خود انتشار کا شکار، مسعود حسین جعفری
ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ اصل چپقلش بنیادی طور پر دو دھاروں کے درمیان ہے: ایک طرف "بانی ایم کیو ایم" کے بیانیے سے جڑے کارکن، دوسری طرف بہادر آباد قیادت جو ریاستی اداروں اور موجودہ سیاسی نظام کے ساتھ بقا کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ اختلافات پھر سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ کراچی کی بلدیاتی نمائندگی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر کسی ایک مرکز کا کنٹرول نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا مزید دھڑے بندی کا جواز بنایا جائے گا؟ اگر قیادت کسی متفقہ بیانیے پر نہیں آتی تو کارکنوں کی وفاداریاں تقسیم ہوتی رہیں گی۔ بہادر آباد گروپ عملی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ لندن سے بیانیہ اب بھی جذباتی ووٹ بینک کو متحرک کرتا ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور نئی مقامی جماعتیں کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اندرونی لڑائی سے پارٹی کا انتخابی اثر کم ہو گا، خاص کر نوجوان ووٹر متبادل تلاش کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اتحادی دونوں چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک پلیٹ فارم پر رہے تاکہ کراچی میں استحکام رہے۔ اس لیے باہر سے "مفاہمت" کا پریشر بڑھے گا، مگر اندرونی اعتماد کی کمی رکاوٹ بنے گی۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ایم کیو ایم کی اصل طاقت کراچی کے مہاجر طبقے کی نمائندگی تھی۔ جب تک پارٹی اپنے بیانیے کو نئی نسل کے مسائل روزگار، پانی، ٹرانسپورٹ سے جوڑ کر متحد نہیں کرتی، قیادت کی چپقلش صرف اندرونی بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ووٹ اور اثر دونوں گنوا دے گی۔ بقا کا راستہ یا تو مکمل مفاہمت ہے یا پھر ایک نیا، نوجوان قیادتی ڈھانچہ جو ماضی کے بوجھ سے آزاد ہو۔

Comments
Post a Comment
Any