سندھ حکومت/بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے! مسعود حسین جعفری
سندھ حکومت نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بجائے صرف الفاظ کا ہیر پھیر لگتا ہے۔ تقریر میں "ترقی، خوشحالی اور عوام دوست اقدامات" کے نعرے تو بہت بلند کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ تعلیم اور صحت کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن پچھلے سالوں کی طرح فنڈز کی اصل تقسیم اور خرچ کا طریقہ کار مبہم رکھا گیا۔ کراچی، حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کی سڑکوں، پانی اور نکاسی کے مسائل پر پرانے وعدے ہی دہرا دیے گئے۔ نئے منصوبوں کے نام تو رکھ دیے گئے، مگر ان کی تکمیل کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ ٹیکس اور سبسڈی کے اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سننے میں ریلیف لگے، مگر مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی جیب پر بوجھ ہی بڑھے گا۔ "ڈیجیٹل سندھ" اور "گرین انرجی" جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوش کی گئی، مگر عملی منصوبہ بندی غائب ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے۔ کاغذ پر سب کچھ بہتر ہے، مگر عوام کو اس سے کتنا فائدہ پہنچے گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔

Comments
Post a Comment
Any