واٹر بورڈ کا ظالمانہ رویہ، پانی کی لائنیں خشک، شہر کا شہر پیاسا! مسعود حسین جعفری
سندھ پر زرداری مافیا کا قبضہ 20 سال پر محیط ہے۔ دو دہائیوں میں یہ گروہ اقتدار، ٹھیکوں اور وسائل پر مکمل قابض رہا۔ نتیجہ؟ کراچی کی سڑکیں کھنڈرات، حیدرآباد کی لائنیں خشک، لاڑکانہ میں گٹر کے جوہڑ۔ شہر کے شہر پیاسے ہیں۔ پانی کا مسئلہ صرف مسئلہ نہیں، یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ K-IV منصوبہ 15 سال سے فائل میں سڑ رہا ہے۔ S-III کا نام سن کر عوام تھک چکے ہیں۔ واٹر بورڈ، KMC، واسا، یہ سب ادارے عوام کی خدمت کے بجائے کمیشن، رشوت اور ٹینکر مافیا کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔ ٹیکس ہر ماہ بل کی صورت میں وصول ہوتا ہے، بدلے میں گندا پانی، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ، اور ٹوٹی سڑکیں ملتی ہیں۔20 سال میں اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ کیے گئے۔ ہر منصوبے کے نیچے کمیشن کی لکیر کھنچی گئی۔ اسپتالوں میں دوا نہیں، اسکولوں میں استاد نہیں، لیکن زرداری مافیا کے اثاثے دبئی، لندن اور یورپ کی جائیدادوں میں بڑھتے گئے۔ ادارے مکمل طور پر مفلوج کر دیے گئے۔ جو افسر کام مانگے، اس کا تبادلہ۔ جو سوال کرے، اس کی فائل دبا دی جاتی ہے۔شہری کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ ماں اپنے بچے کے لیے پانی کی بالٹی بھرنے کے لیے رات 2 بجے اٹھتی ہے۔ نوجوان روزگار کے لیے در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ تاجر بھتہ دیتا ہے، غریب ٹینکر کا پیسہ دیتا ہے۔ پورا نظام ایک مافیا کے کنٹرول میں ہے جسے عوام کے درد سے کوئی سروکار نہیں۔20 سال بہت ہوتے ہیں۔ اتنے وقت میں قومیں ترقی کر جاتی ہیں۔ یہاں صرف وعدے، صرف اشتہار، صرف فوٹو سیشن ہوا۔ بنیادی سہولت پانی تک نہ دے سکے۔ سوال اب یہ ہے جب ادارے مر جائیں، احتساب دفن ہو جائے، اور آواز دبا دی جائے، تو ظلم کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حکمران عوام کی پیاس اور تڑپ کو مذاق سمجھ لیتے ہیں، تو عوام کی خاموشی ٹوٹتی ہے۔ سندھ کے عوام مزید دھوکے، مزید وعدے، مزید 5 سال برداشت نہیں کریں گے۔

Comments
Post a Comment
Any