۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں! مسعود حسین جعفری
گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ دہائیوں سے وعدے کیے گئے، قراردادیں پاس ہوئیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے ہمیشہ اوپر سے مسلط کیے جاتے رہے۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں۔ ان کے وسائل، بجلی، معدنیات اور پانی پر دوسروں کا کنٹرول ہے جبکہ مقامی آبادی روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو ترستی ہے۔ ہر الیکشن کے بعد نعرے بدلتے ہیں، مگر پالیسی وہی رہتی ہے۔ طاقتور مافیا نے زمینوں، ٹھیکوں اور وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اصل باشندے تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ادھر کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کشمیریوں کی رائے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شناخت، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے گئے۔ باہر سے آنے والے مافیا گروپ معیشت، زمین اور سیاست پر حاوی ہیں۔ مقامی نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہے۔دونوں خطوں کا مسئلہ ایک ہے: حقدار کو حق نہیں مل رہا۔ جب تک فیصلے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کریں گے اور مقامی آواز دبائی جائے گی، امن و ترقی ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگ خودمختار فیصلے چاہتے ہیں۔ وہ مافیاز کی جبری مسلط کردہ سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔حقداروں کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ محرومی کی یہ آگ مزید شدت پکڑے گی۔

Comments
Post a Comment
Any