ایران مخالف بیانیہ، اسرائیل کے حامی مولویوں کے ترتیب وار حملے، مسعود حسین جعفری
پاکستان میں بھی اب صورتحال دیگر اسلامی ممالک جیسی بنتی جا رہی ہے جہاں مذہبی طبقہ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی پاکستانی مولوی ٹی وی چینلز، جمعہ کے خطبات اور سوشل میڈیا پر ایران کو اصل فتنہ قرار دے کر اسرائیل کے موقف کو بالواسطہ درست ثابت کر رہے ہیں۔ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ خطے کا اصل خطرہ ایران ہے، اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا وقت کی ضرورت ہے۔اس میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خاموش رضامندی بھی شامل ہے۔ پالیسی سطح پر جب تعلقات کو نرم کرنے کے اشارے دیے جاتے ہیں تو مذہبی طبقے کو گرین سگنل مل جاتا ہے کہ وہ عوام کو ذہنی طور پر تیار کرے۔ اسی لیے اب ایسے مولوی سامنے آ رہے ہیں جو فلسطین کے بجائے "امت کی وحدت" اور "ایرانی توسیع پسندی" کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔پاکستانی مولویوں کا سب سے اہم کردار ایران مخالف بیانیہ بنانا ہے۔ وہ شیعہ-سنی تفریق کو ہوا دے کر ایران کو امت کا دشمن ثابت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ یوں مذہب، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی لائن ایک ہی سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے: ایران کے خلاف صف بندی اور اسرائیل سے ممکنہ مفاہمت کی راہ ہموار کرنا۔

Comments
Post a Comment
Any