گلگت بلتستان اور کشمیر، اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا! مسعود حسین جعفری
گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ رائے کو کھلم کھلا روندا جا رہا ہے یہ محرومی اتفاق نہیں یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ذمہ دار کون؟ وفاقی اشرافیہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز جنہوں نے دونوں خطوں کو ہمیشہ سودے بازی کا مال سمجھا۔ وعدے کیے، قراردادیں توڑیں، اور آئینی حیثیت کو لٹکایا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج تک مکمل آئینی صوبہ بنانے سے انکار اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کچلنا ان کی پالیسی کا ثبوت ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی جنہوں نے ہر الیکشن ہر احتجاج اور ہر مطالبے کو اپنے اشاروں پر نچایا مقامی نمائندے صرف کٹھ پتلی ہیں اصل اختیارات ہمیشہ غیر مقامی افسران اور اداروں کے پاس رہے۔مقامی مافیا گروپ زمین مافیا، ٹھیکہ مافیا اور معدنیات مافیا جو اشرافیہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ مل کر وسائل لوٹے گلگت کی زمینیں کشمیر کے جنگلات اور دریا آج ان کی جاگیر بن چکے ہیں مقامی نوجوان کو روزگار نہیں صرف مایوسی ملی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی پیدا کرنے والے اندھیرے میں ہیں۔ معدنیات کے مالک خود خالی ہاتھ ہیں پانی پر حق رکھنے والے پیاسے ہیں۔ بس اب کافی ہو گیا اگر حقداروں کو فوری حقِ خودارادیت اور آئینی تحفظ نہ دیا گیا تو یہ مافیاز کی مسلط کردہ خاموشی زیادہ دیر نہیں ٹکے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ محکوم قومیں ہمیشہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

Comments
Post a Comment
Any