ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل! مسعود حسین جعفری
ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اربابِ اختیار سیاسی قیادت کا انتخاب ووٹ کی پرچی سے نہیں بلکہ بند کمروں میں انٹرویو اور ڈیل کے تحت کرتی ہے۔ عوام کو الیکشن کے نام پر ایک ڈرامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا تاثر قائم رہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔جسے اسٹبلشمنٹ منظور کر لے، اقتدار اس کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جسے ناپسند کر لیا جائے، اس سے اقتدار واپس چھین لیا جاتا ہے۔ یہ چھیننا کبھی عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی احتساب کے نام پر، اور کبھی "غیر آئینی" کہہ کر۔ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ جاتی ہے۔الیکشن مہم، جلسے، نعرے، سب کچھ صرف دھوکا ہے۔ اصل سلیکشن پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں پانچ سال پورے نہیں کر پاتیں۔ جس دن اسٹبلشمنٹ کا من پسند تبدیل ہو جائے، اسی دن حکومت کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا اقتدار کس کو دیا جائے گا۔ پرانا چہرہ واپس لایا جائے گا یا کوئی نیا من پسند سامنے آئے گا۔ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا، فیصلہ وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔میرے محب وطن ہم وطنوں کو کیا لگتا ہے، اگلا من پسند کون ہو گا؟

Comments
Post a Comment
Any