Posts

سندھ حکومت/بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
سندھ حکومت نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بجائے صرف الفاظ کا ہیر پھیر لگتا ہے۔ تقریر میں "ترقی، خوشحالی اور عوام دوست اقدامات" کے نعرے تو بہت بلند کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ تعلیم اور صحت کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن پچھلے سالوں کی طرح فنڈز کی اصل تقسیم اور خرچ کا طریقہ کار مبہم رکھا گیا۔ کراچی، حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کی سڑکوں، پانی اور نکاسی کے مسائل پر پرانے وعدے ہی دہرا دیے گئے۔ نئے منصوبوں کے نام تو رکھ دیے گئے، مگر ان کی تکمیل کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ ٹیکس اور سبسڈی کے اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سننے میں ریلیف لگے، مگر مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی جیب پر بوجھ ہی بڑھے گا۔ "ڈیجیٹل سندھ" اور "گرین انرجی" جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوش کی گئی، مگر عملی منصوبہ بندی غائب ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے۔ کاغذ پر سب کچھ بہتر ہے، مگر عوام کو اس سے کتنا فائدہ پہنچے گا، ی...

ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل! مسعود حسین جعفری

Image
ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اربابِ اختیار سیاسی قیادت کا انتخاب ووٹ کی پرچی سے نہیں بلکہ بند کمروں میں انٹرویو اور ڈیل کے تحت کرتی ہے۔ عوام کو الیکشن کے نام پر ایک ڈرامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا تاثر قائم رہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔جسے اسٹبلشمنٹ منظور کر لے، اقتدار اس کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جسے ناپسند کر لیا جائے، اس سے اقتدار واپس چھین لیا جاتا ہے۔ یہ چھیننا کبھی عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی احتساب کے نام پر، اور کبھی "غیر آئینی" کہہ کر۔ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ جاتی ہے۔الیکشن مہم، جلسے، نعرے، سب کچھ صرف دھوکا ہے۔ اصل سلیکشن پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں پانچ سال پورے نہیں کر پاتیں۔ جس دن اسٹبلشمنٹ کا من پسند تبدیل ہو جائے، اسی دن حکومت کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا اقتدار کس کو دیا جائے گا۔ پرانا چہرہ واپس لایا جائے گا یا کوئی نیا من پسند سامنے آئے گا۔ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا، فیصلہ وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔میرے محب وطن ہم وطنوں ک...

غیر آئینی و غیر قانونی وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات! مسعود حسین جعفری

Image
وفاقی بجٹ اور عوامی اثرات۔وفاقی غیر آئینی و غیر قانونی حکومت عوام پر زبردستی بجٹ تھوپنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ بجٹ مشاورت، شفافیت اور عوامی مفاد کے بغیر تیار کیا گیا، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پوری قوم محسوس کرے گی۔ مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور سبسڈیز کا خاتمہ عام آدمی کی قوت خرید کو براہ راست متاثر کرے گا۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط طبقہ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اب اس پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ایسے یکطرفہ فیصلوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے، کاروبار سست پڑتے ہیں اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ تعلیم و صحت کے بجٹ میں کٹوتی کر کے مستقبل کی نسلوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر وہ طبقات ہیں جو اس پالیسی کی قیمت سب سے زیادہ ادا کریں گے۔جب فیصلے ایوانوں میں عوام کی آواز سنے بغیر کیے جائیں تو ملک و قوم کا نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔ یہ لوگ کسی صورت ملک و قوم سے مخلص نہیں، کیونکہ مخلص قیادت ہمیشہ عوام کو ساتھ...

مسلم ممالک میں اسرائیل کا خوف ایک ناسور بن گیا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
مسلم ممالک میں اسرائیل کا خوف ایک ناسور بن گیا ہے ۔مسلم دنیا آج جس دور سے گزر رہی ہے وہ تاریخ کا تلخ ترین باب ہے۔ وہ ممالک جو کبھی اسلام کا قلعہ کہلاتے تھے، آج مسلمانوں کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ اسرائیل کے خوف نے ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ پہلے فلسطین کی زمین پر قبضہ ہوا تو آوازیں اٹھیں، قراردادیں پاس ہوئیں۔ اب جب معاملہ اپنی سرحدوں تک پہنچا تو وہی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے مسلم حکمرانوں نے اپنی زمینیں، اپنی خودمختاری، اپنی غیرت سب کچھ سودے بازی میں رکھ دی۔ جو ممالک کل تک امت کی بات کرتے تھے، آج معاہدوں کے نام پر اپنی سرزمین کے ٹکڑے دشمن کے حوالے کر رہے ہیں۔ بیس کیمپ دیے جا رہے ہیں، فضائی حدود کھول دی گئی ہیں، اور سفارتی تعلقات کو "مصلحت" کا نام دے کر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلمان بے بس دیکھ رہا ہے کہ اس کے اپنے ہی گھر کے دروازے دشمن کے لیے کھل رہے ہیں۔ اسرائیل کا خوف اتنا بڑھ گیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی بقا کے لیے اپنی شناخت بیچنے پر مجبور ہیں۔ جب تک یہ خوف دل سے نہیں نکلے گا، مسلم امہ یونہی بکھری رہے گی۔ اور جب تک حکمران اپنی زمین امریکہ اسر...

۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
گلگت بلتستان اور کشمیر حق کی پامالی۔گلگت بلتستان اور کشمیر، دونوں خطے قدرتی حسن اور قربانیوں کی سرزمین ہیں۔ لیکن آج ان کے اصل حقدار، یعنی یہاں کے باسی، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ دہائیوں سے وعدے کیے گئے، قراردادیں پاس ہوئیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فیصلے ہمیشہ اوپر سے مسلط کیے جاتے رہے۔گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی آئینی حیثیت کے انتظار میں ہیں۔ ان کے وسائل، بجلی، معدنیات اور پانی پر دوسروں کا کنٹرول ہے جبکہ مقامی آبادی روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کو ترستی ہے۔ ہر الیکشن کے بعد نعرے بدلتے ہیں، مگر پالیسی وہی رہتی ہے۔ طاقتور مافیا نے زمینوں، ٹھیکوں اور وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اصل باشندے تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ادھر کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کشمیریوں کی رائے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شناخت، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے گئے۔ باہر سے آنے والے مافیا گروپ معیشت، زمین اور سیاست پر حاوی ہیں۔ مقامی نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہے۔دونوں خطوں کا مسئلہ ایک ہے: حقدار کو حق نہیں مل رہا۔ جب تک فیصلے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کریں گے ...

گلگت بلتستان اور کشمیر، اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا! مسعود حسین جعفری

Image
گلگت بلتستان اور کشمیر اب مزید دھوکہ نہیں چلے گا۔موجودہ صورتحال شرمناک ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے اصل وارث آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن چکے ہیں۔ ان کے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ رائے کو کھلم کھلا روندا جا رہا ہے یہ محرومی اتفاق نہیں یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ذمہ دار کون؟ وفاقی اشرافیہ اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز جنہوں نے دونوں خطوں کو ہمیشہ سودے بازی کا مال سمجھا۔ وعدے کیے، قراردادیں توڑیں، اور آئینی حیثیت کو لٹکایا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج تک مکمل آئینی صوبہ بنانے سے انکار اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کچلنا ان کی پالیسی کا ثبوت ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی جنہوں نے ہر الیکشن ہر احتجاج اور ہر مطالبے کو اپنے اشاروں پر نچایا مقامی نمائندے صرف کٹھ پتلی ہیں اصل اختیارات ہمیشہ غیر مقامی افسران اور اداروں کے پاس رہے۔مقامی مافیا گروپ زمین مافیا، ٹھیکہ مافیا اور معدنیات مافیا جو اشرافیہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری مشینری کے ساتھ مل کر وسائل لوٹے گلگت کی زمینیں کشمیر کے جنگلات اور دریا آج ان کی جاگیر بن چکے ہیں مقامی نوجوان کو روزگار نہیں صرف مایوسی ملی۔نتیجہ یہ نکلا...

بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
بجٹ تو ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے، خرچ کرے پھر IMF/World Bank بیچ میں کیوں آتے ہیں؟ جب پاکستان IMF سے بیل آؤٹ پیکج لیتا ہے، جیسے $3 ارب یا $7 ارب کا پروگرام، تو IMF کہتا ہے پیسے دوں گا، لیکن پہلے تمہاری معیشت ٹھیک کرو۔ وہ شرائط بجٹ پر لگتی ہیں - جیسے سبسڈی کم کرو، ٹیکس بیس بڑھاؤ، خسارہ کم کرو۔ ورنہ قسط روک دیتے ہیں۔عالمی ساکھ World Bank والے پروجیکٹ لون دیتے ہیں  سڑکیں، بجلی، تعلیم کے لیے۔ وہ بھی بجٹ میں شفافیت اور مخصوص ہدف مانگتے ہیں۔ڈالر کا مسئلہ ہمارے پاس ڈالر کم ہیں تیل، گندم، دوائیں باہر سے خریدنی ہیں IMF کے بغیر ڈالر نہیں ملتے، روپیہ گرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے تو مجبوراً ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔گھر آپ کا ہے، خرچے آپ کی مرضی۔ لیکن اگر آپ نے بینک سے قرض لیا ہوا ہے تو بینک کہے گا "غیر ضروری خرچہ بند کرو، پہلے قسط دو"۔ IMF بھی وہی بینک ہے، بس پیمانہ پورے ملک کا ہے۔تو تکنیکی طور پر بجٹ اندرونی ہے، لیکن عملی طور پر جب تک ہم قرض میں ہیں، IMF کی رضامندی کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ہر سال $60 ارب+ کی امپورٹ کرتا ہے۔ تیل، L...