ایران میزائل صلاحیت میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل! مسعود حسین جعفری
دفاعی ضروریات پر کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں
یہ بیان ایران کے سرکاری میڈیا میں سامنے آیا ہے۔ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتیں اور تجربات آزاد ممالک خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم SCO کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ طلائی نیک نے ہفتے کے روز یہ بات کہی۔ اسی بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت کا اہم حصہ ابھی استعمال نہیں ہوا اور ملک کی ہتھیار سازی مکمل طور پر ملکی پیداواری لائن پر مبنی ہے۔یہ بیان چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں SCO وزرائے دفاع کے سالانہ اجلاس کے وقت سامنے آیا۔ اس اجلاس میں ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ اور روس کے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے شرکت کی۔ چین نے اس اجلاس کو یکطرفہ پسندی اور غنڈہ گردی کے خلاف SCO ممالک کے تعاون کو بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔طلائی نیک نے زور دیا کہ ایران اب میزائل صلاحیت میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے اور دفاعی ضروریات پر کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی 60% فوجی سازوسامان اب نجی شعبہ اور نالج بیسڈ کمپنیاں بنا رہی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے 10 رکن ہیں چین، روس، ایران، بھارت، پاکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس۔ ایران جولائی 2023 میں باضابطہ رکن بنا تھا۔ تو خلاصہ یہ ہے کہ ایران نے SCO پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دفاعی تعاون کی پیشکش کی ہے، خاص کر میزائل اور ملکی ساختہ ہتھیاروں کے شعبے میں۔

Comments
Post a Comment
Any