منی لانڈرنگ ،رقومات کی منتقلی ،ایک جائزہ

پاکستان میں منی لانڈرنگ اور رشوت کی رقم بیرون ملک منتقلی، ایک جائزہ! مسعود حسین 
جعفری

پاکستان میں منی لانڈرنگ ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے جس پر قومی اداروں، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور عالمی ادارے جیسے FATF بھی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بدعنوانی سے حاصل کی گئی رقوم کو قانونی شکل دینے یا بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے عام طور پر جو طریقے رپورٹس اور تجزیوں میں سامنے آتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں۔ ہنڈی/حوالہ نظام:یہ سب سے پرانا اور غیر رسمی طریقہ ہے۔ اس میں بینکنگ چینل استعمال کیے بغیر ملک کے اندر رقم ایک ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور بیرون ملک دوسرا ایجنٹ اتنی ہی رقم وصول کنندہ کو ادا کر دیتا ہے۔ کوئی کاغذی ریکارڈ بینکوں میں نہیں آتا، اس لیے ٹریک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ماضی میں اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کی رپورٹس میں اسے منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔تجارتی منی لانڈرنگ (Trade-Based Money Laundering)اس میں درآمدات و برآمدات کی رسیدوں میں ہیر پھیر کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اوور انوائسنگ باہر سے 10 لاکھ ڈالر کا سامان منگوایا مگر کاغذات میں 20 لاکھ ڈالر ظاہر کر کے اضافی رقم بیرون ملک بھجوا دی۔ برآمدات کو کم قیمت پر ظاہر کر کے فرق کی رقم بیرون ملک اکاؤنٹس میں رکھوا لی جاتی ہے۔ جعلی کمپنیاں شیل کمپنیوں کے ذریعے سامان کی جعلی خریدوفروخت دکھائی جاتی ہے۔رئیل اسٹیٹ اور غیر ملکی جائیدادیں
رشوت یا کرپشن سے حاصل کی گئی رقم سے دبئی، لندن، یا دیگر ممالک میں جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ جائیداد کسی رشتہ دار، فرنٹ مین یا آف شور کمپنی کے نام پر ہوتی ہے تاکہ اصل مالک کا نام سامنے نہ آئے۔ پاناما پیپرز اور پنڈورا پیپرز میں اس طرح کے کیسز عالمی سطح پر رپورٹ ہو چکے ہیں۔آف شور کمپنیاں اور ٹرسٹ،برٹش ورجن آئی لینڈز، پاناما، یا دیگر ٹیکس ہیون ممالک میں کاغذی کمپنیاں بنا کر رقوم وہاں منتقل کی جاتی ہیں۔ یہ کمپنیاں پھر بینک اکاؤنٹس کھولتی ہیں اور رقم کو قانونی سرمایہ کاری ظاہر کر دیا جاتا ہے۔غیر ملکی اکاؤنٹس اور سیاسی اثر و رسوخ، کچھ کیسز میں بینکنگ چینلز کو بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن اقربا پروری یا اثر و رسوخ کے ذریعے KYC اور AML قوانین پر عمل درآمد کمزور کر دیا جاتا ہے۔ رقوم کو "تحفہ"، "کاروباری منافع" یا "کنسلٹنسی فیس" ظاہر کر کے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔پاکستان میں نیب، ایف آئی اے اور صحافتی رپورٹس میں وقتاً فوقتاً ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ طاقتور عہدوں پر موجود افراد غیر قانونی دولت بنانے کے بعد اوپر بتائے گئے طریقوں سے اسے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس پالیسی سازی اور اداروں پر اثر انداز ہونے کی طاقت ہوتی ہے، اس لیے نگرانی کے نظام میں رخنے پیدا ہو سکتے ہیں۔منی لانڈرنگ کا تعلق صرف حکومت کے ارکان سے نہیں بلکہ ہر اس فرد سے ہے جو ناجائز دولت چھپانا چاہتا ہے۔ تاہم، جب اختیار رکھنے والے لوگ اس میں ملوث ہوں تو نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے شفافیت، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کا یکساں نفاذ ہی واحد حل ہے۔۔ پاناما پیپرز اور پنڈورا پیپرز میں اس طرح کے کیسز عالمی سطح پر رپورٹ ہو چکے ہیں۔آف شور کمپنیاں اور ٹرسٹ،برٹش ورجن آئی لینڈز، پاناما، یا دیگر ٹیکس ہیون ممالک میں کاغذی کمپنیاں بنا کر رقوم وہاں منتقل کی جاتی ہیں۔ یہ کمپنیاں پھر بینک اکاؤنٹس کھولتی ہیں اور رقم کو قانونی سرمایہ کاری ظاہر کر دیا جاتا ہے۔غیر ملکی اکاؤنٹس اور سیاسی اثر و رسوخ، کچھ کیسز میں بینکنگ چینلز کو بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن اقربا پروری یا اثر و رسوخ کے ذریعے KYC اور AML قوانین پر عمل درآمد کمزور کر دیا جاتا ہے۔ رقوم کو "تحفہ"، "کاروباری منافع" یا "کنسلٹنسی فیس" ظاہر کر کے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔پاکستان میں نیب، ایف آئی اے اور صحافتی رپورٹس میں وقتاً فوقتاً ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ طاقتور عہدوں پر موجود افراد غیر قانونی دولت بنانے کے بعد اوپر بتائے گئے طریقوں سے اسے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس پالیسی سازی اور اداروں پر اثر انداز ہونے کی طاقت ہوتی ہے، اس لیے نگرانی کے نظام میں رخنے پیدا ہو سکتے ہیں۔منی لانڈرنگ کا تعلق صرف حکومت کے ارکان سے نہیں بلکہ ہر اس فرد سے ہے جو ناجائز دولت چھپانا چاہتا ہے۔ تاہم، جب اختیار رکھنے والے لوگ اس میں ملوث ہوں تو نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے شفافیت، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کا یکساں نفاذ ہی واحد حل ہے۔




Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری