اصولاً پاکستان کے لیے تشویش کم، موقع زیادہ ہیں! مسعود حسین جعفری
ایران اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 27 اپریل 2026 کو ماسکو پہنچے اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ عباس عراقچی نے ایرانی سپریم لیڈر کا خصوصی پیغام پیوٹن کو پہنچایا۔یوٹن نے کہا کہ روس وہ سب کچھ کرے گا جو ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے مفاد میں ہو ایجنڈا جنگ بندی، علاقائی پیش رفت، اور مذاکرات کی تازہ صورتحال، عباس عراقچی اس سے پہلے پاکستان میں فعاصم منیر سے بھی ملے تھے، اور ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو جنگ ختم کرنے کی شرائط پہنچائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ، اسرائیل اور پاکستان کو تشویش ہے؟ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب ایران-اسرائیل کشیدگی عروج پر ہے۔ روس ایران گہرا فوجی تعاون امریکہ اور اسرائیل کے لیے ریڈ فلیگ ہے۔اسرائیل کو ڈر ہے کہ روس ایران کو سفارتی کور یا ہتھیار دے سکتا ہے۔امریکہ کو تشویش ہے کہ روس کی ثالثی سے ایران پر دباؤ کم ہو جائے گا اور پابندیاں غیر مؤثر ہو جائیں گی۔ لیکن پاکستان کے لیے تشویش کم، موقع زیادہ ہیں۔عباس عراقچی ماسکو جانے سے پہلے اسلام آباد آئے اور عاصم منیر سے ملے۔ایران نے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ بیک چینل کے طور پر استعمال کیا جو کہ پاکستان کے لیے یہ سفارتی اہمیت بڑھاتا ہے۔ البتہ پاکستان کو تشویش یہ ہوسکتی ہے کہ اگر ایران-روس اتحاد مضبوط ہوا اور خطے میں جنگ بڑھی تو بلوچستان بارڈر اور افغان صورتحال پر اثر پڑے گا۔ اس لیے پاکستان ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ملاقات دراصل وزیر خارجہ سطح کی تھی، امریکہ اور اسرائیل کو واضح تشویش ہے کہ روس ایران کو سپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان فی الحال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور براہ راست مخالف نہیں۔ لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ثالث بن کر اندرون ملک کے مسائل مزید بڑھ چکے ہیں جس کا کوئی تدارک نہیں۔

Comments
Post a Comment
Any