کوئی بھی مافیا خود سے نہیں ہٹتی
سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت اور وفاق میں اس کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل بدترین ہیں! مسعود حسین جعفری
کراچی کے مسئلے صرف ایک پارٹی یا ایک شخصیت تک محدود نہیں، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت اور وفاق میں اس کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ اس پر عوامی سطح پر شدید تنقید موجود ہے۔ اتنی طاقت و اختیار کے باوجود کراچی کے حالات کیوں خراب ہیں؟ گورننس کا بحران 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ اختیارات صوبے کے پاس ہیں مگر کراچی کے بلدیاتی ادارے مالی اور انتظامی طور پر کمزور رکھے گئے۔ میئر کے پاس کچرا، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی اختیارات بھی پورے نہیں۔ نتیجہ جوابدہی کا فقدان ٹھہرا۔فنڈز اور کرپشن سندھ کا ترقیاتی بجٹ ہر سال کھربوں میں ہوتا ہے، کراچی سے سب سے زیادہ ٹیکس جمع ہوتا ہے، مگر زمین پر کام نظر نہیں آتا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس میں سندھ کے کئی منصوبوں میں بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ K-IV پانی منصوبہ، گرین لائن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے منصوبے سالوں تاخیر اور لاگت بڑھنے کا شکار رہے۔انفراسٹرکچر کی تباہی سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی، بجلی، پبلک ٹرانسپورٹ ہر شعبہ بحران کا شکار ہے۔ ہر بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے۔سیاسی مفادات کراچی کی 25+ قومی اسمبلی سیٹیں ہیں وفاق میں حصہ داری کے باوجود جب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ترجیحات نہیں ملتیں تو کراچی سینڈوچ بن جاتا ہے۔ MQM، PPP، PTI سب نے مختلف ادوار میں وعدے کیے مگر ڈیلیوری کمزور رہی۔اب آخری سوال یہی بنتا ہے کیا حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟ جی ہاں، لیکن 3 چیزوں کے بغیر مشکل ہے پہلا حقیقی بلدیاتی نظام جب تک میئر اور مقامی حکومت کو مالی و انتظامی خودمختاری نہیں ملے گی، فنڈز اوپر ہی رکیں گے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر کا ماڈل یہی ہے نیویارک، لندن، استنبول کا میئر بااختیار ہوتا ہے۔دوسرا احتساب نیب، FIA، اینٹی کرپشن کے کیسز بنتے ہیں مگر سزائیں کم ملتی ہیں۔ جب تک کرپشن کی سیاسی قیمت نہ لگے، فنڈز لیپس ہوتے رہیں گے۔تیسرا وفاق-سندھ ورکنگ ریلیشن K-IV، گرین لائن، کراچی سرکلر ریلوے جیسے منصوبے وفاق اور سندھ کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔ سیاسی لڑائی میں شہر پس جاتا ہے۔زرداری لیگ کا یہ مؤقف ہے کہ وہ جمہوری مینڈیٹ سے حکومت میں ہیں اور سندھ میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ تھر کول، صحت کارڈ، امن و امان میں بہتری کو وہ اپنی کامیابی بتاتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کراچی کو جان بوجھ کر محروم رکھا گیا کیونکہ یہاں PPP کا ووٹ بینک کمزور ہے۔ سچ غالباً بیچ میں ہے - نظام میں خرابی ہے جس کا فائدہ طاقتور طبقے اٹھاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں۔ کراچی تباہ نہیں ہوا مفلوج کیا گیا ہے۔ اس شہر نے 50 سال میں 3 کروڑ آبادی سمو لی، پھر بھی پاکستان کا 55% ایکسپورٹ اور 65% ریونیو دیتا ہے۔ اس میں واپسی کی طاقت ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر کئی تجاوزات ہٹیں، نالوں کی صفائی ہوئی۔ نوجوان آبادی، پرائیویٹ سیکٹر، اور عدالتی ایکٹوازم پریشر بنا رہے ہیں۔بہتری ایک دن میں نہیں آئے گی۔ اس کے لیے ووٹر کا پریشر، عدالتی نگرانی، اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار کرنا ضروری ہے۔ جب تک کراچی کا شہری اپنے ٹیکس کے بدلے سوال نہیں کرے گا، کوئی بھی "مافیا" خود سے نہیں ہٹے گا۔

Comments
Post a Comment
Any