زبردستی مسلط کردہ عناصر اتحاد میں کھنچاو کی کیفیات ،مسعود حسین جعفری


"فارم 47" کی اصطلاح پاکستان میں 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے سیاسی گفتگو کا حصہ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر PTI اس اصطلاح کو موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے۔موجودہ صورتحال کے 3 اہم پہلو ہیں حکومتی اتحاد میں کھچاؤ، PML-N اور PPP کی مخلوط حکومت ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے دونوں جماعتوں کے درمیان بجٹ، پنجاب میں گورننس، اور آئینی ترامیم پر اختلافات کی خبریں آتی رہی ہیں۔ PPP نے کئی بار اسٹیبلشمنٹ سے علیحدہ لائحہ عمل اپنانے کی بات کی ہے۔خفیہ سازشوں کا بیانیہ، پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی اور اندرونی سازشوں کے چرچے ہمیشہ رہتے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اتحادی ہی آپس میں رابطوں میں ہیں تاکہ پریشر بڑھایا جائے۔ حکومت اسے مسترد کرتی ہے اور اسے سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کہتی ہے۔
کیا رجیم چینج کا امکان ہے؟ آئینی طور پر رجیم چینج کے صرف 2 راستے ہیں 1. وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، 2. اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں نمبر گیم حکومتی اتحاد کے حق میں ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے لیے PPP کا ساتھ چھوڑنا ضروری ہوگا، جس کے فی الحال واضح اشارے نہیں ہیں۔ آخری سوال تو کیا ہونے والا ہے؟
پاکستانی سیاست میں خفیہ ملاقاتیں اور ناراضگی کی خبریں اکثر پریشر پولیٹکس کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب لازمی رجیم چینج نہیں ہوتا۔ 2026 میں سینیٹ الیکشن اور عدالتی فیصلے بھی اہم ہوں گے۔ جب تک کوئی بڑی پارٹی باضابطہ طور پر اتحاد سے نکلنے کا اعلان نہ کرے، حکومت کو فوری خطرہ نہیں دکھتا۔البتہ معاشی دباؤ، IMF شرائط، اور سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت اوپر رہے گا۔میرے خیال میں موجودہ اختلافات پریشر بڑھانے کی حکمت عملی ہیں یا واقعی کوئی بڑی تبدیلی کی بنیاد بن رہی ہے؟


Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری