کرپشن بطور نظام: مسعود حسین جعفری
پینے کا صاف پانی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے خواب ہے
صحت کا بجٹ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود
اسپتالوں کی حالت بدترین ہے
سندھ حکومت کا طویل ترین اقتدار اور عوامی محرومیاں سندھ پر پچھلے تقریباً 20 سال سے مسلسل ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا کسی بھی صوبے میں سب سے طویل بلاتعطل اقتدار ہے۔ مگر اس پورے عرصے میں عام آدمی کی زندگی میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی۔ بنیادی سہولیات کا بحران، کراچی سے لے کر اندرونِ سندھ تک، پینے کا صاف پانی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے خواب ہے۔ سرکاری اسکولوں کی 40% سے زیادہ عمارتیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں، اور اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیں۔ سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، اور ہر مون سون میں شہر دریا بن جاتے ہیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود سڑکیں، پل اور اسکیمیں کاغذوں سے آگے نہیں بڑھتیں۔ کرپشن بطور نظام بنا دیا گیا ہے نیب، ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں سالہا سال سے سندھ کے محکموں میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیاں دکھا رہی ہیں۔ گندم اسکینڈل، پانی کے منصوبوں میں کمیشن، جعلی بھرتیاں، اور ترقیاتی
فنڈز کا احتساب کے ادارے بھی سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو جاتے ہیں اقتدار کے باوجود کارکردگی صفر اتنا طویل عرصہ کسی بھی حکومت کے لیے اپنی کارکردگی دکھانے کو کافی سے زیادہ ہوتا ہے۔ دبئی، سنگاپور جیسے شہر اس سے کم وقت میں بن گئے۔ مگر سندھ میں ہر الیکشن کے بعد وہی وعدے، وہی نعرے، اور وہی تباہ حال نظام ملتا ہے۔ تعلیم میں سندھ آج بھی باقی صوبوں سے پیچھے ہے، صحت کا بجٹ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود اسپتالوں کی حالت بدترین ہے، اور کراچی جیسا ریونیو جنریٹ کرنے والا شہر کچرے اور ٹوٹی سڑکوں کی تصویر بنا ہوا ہے۔طویل ترین اقتدار کے باوجود اگر عوام کو پینے کا پانی، علاج، تعلیم اور روزگار نہ ملے، اور ہر منصوبہ کرپشن کی نذر ہو جائے، تو پھر یہ سوال بجا ہے کہ یہ اقتدار کس کے لیے تھا؟ عوام کے لیے یا صرف اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے لیے؟ اگر تبدیلی صرف اشتہاروں اور بیانات میں ہے، زمین پر نہیں، تو عوام کا یہ کہنا غلط نہیں کہ سوائے کرپشن کے کچھ نہیں ملا۔بات یہاں اختتام پذیر نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔

Comments
Post a Comment
Any