100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں، مسعود حسین جعفری



جی ہاں، 15 اپریل 2026 کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں FPCCI کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ پچھلے 3 سے 4 سال میں تقریباً 100 ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یرون ملک جانے والا پیسہ کس طریقے سے گیا اس کے لیے ایک دو بندوں کو کراچی سے اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے بعد سب پتہ چل جائے گا اور تاجروں سے اپیل کی کہ بجٹ سے پہلے کم از کم 10 ارب ڈالر واپس لے آئیں۔سوال یہ ہے کہ حساس اداروں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہوا؟ یہ سوال پاکستان میں اکثر اٹھتا ہے۔ 100 ارب ڈالر کی منتقلی کوئی ایک دن کا کام نہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان اور ماضی کے کیسز کو دیکھیں تو 3 بڑے راستے سامنے آتے ہیں۔وزیر داخلہ نے خود کہا کہ منی چینجر کے ذریعے رقوم منتقلی کے چھ سات کیسز پکڑے ہیں۔ ہنڈی/حوالہ کا نظام بینکنگ چینل کو بائی پاس کرتا ہے۔ پیسہ فزیکلی باہر نہیں جاتا بلکہ یہاں کسی ایجنٹ کو روپے دیتے ہیں اور باہر ڈالر لے لیتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اسے 100% مانیٹر کرنا کسی بھی ایجنسی کے لیے ناممکن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ترسیلات کا بڑا حصہ اب بھی غیر رسمی راستوں سے آتا-جاتا ہے۔ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ انڈر-انوائسنگ اور اوور-انوائسنگ۔ یعنی ایکسپورٹ کو کم دکھانا اور امپورٹ کو زیادہ دکھا کر فرق کا پیسہ باہر رکھ لینا۔ 3 سال میں 100 ارب ڈالر کا مطلب سالانہ 25-30 ارب ڈالر بنتا ہے۔ پاکستان کی کل ایکسپورٹ ہی 30-35 ارب ڈالر سالانہ ہے، اس لیے یہ سارا پیسہ صرف ٹریڈ سے جانا مشکل۔ لیکن یہ ایک بڑا ذریعہ ضرور ہے۔ کسٹمز، FBR اور بینکوں کے پاس ہر انوائس کو ویریفائی کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔
اٹھانے والے بندوں کا نیٹ ورک وزیر داخلہ کا "ایک دو بندے اٹھا لو" والا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ چند بڑے فیسلیٹیٹرز/ایکسچینج کمپنیاں/بینکرز پورے نیٹ ورک کو چلاتے ہیں۔FIA اور حساس ادارے جب بھی کریک ڈاؤن کرتے ہیں تو 5-10 بڑے کیسز پکڑے جاتے ہیں، لیکن نیٹ ورک نیا راستہ نکال لیتا ہے۔ وجہ: ڈیمانڈ موجود ہے۔ جب تک ڈالر کی قلت، سیاسی عدم استحکام اور ٹیکس کا خوف رہے گا، لوگ پیسہ باہر بھیجنے کا رسک لیں گے۔ تو ایجنسیاں کر کیا رہی ہیں؟ محسن نقوی نے خود مانا کہ ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔ یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشی مجبوری vs قانونی کارروائی سخت کریک ڈاؤن سے بزنس کمیونٹی کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ حکومت کو ڈالر بھی چاہئیں اور سرمایہ کاروں کو ناراض بھی نہیں کرنا۔ثبوت کا مسئلہ ہنڈی کا کوئی کاغذی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ "اٹھائے" گئے بندے کے خلاف عدالت میں کیس ثابت کرنا مشکل۔وزیر داخلہ کا حل یہ ہے کہ سزا کے بجائے ترغیب دی جائے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 20-30% پیسہ واپس لے آئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بجٹ سے پہلے 20-25 ارب ڈالر واپس لانا ممکن ہے۔ 100 ارب ڈالر ایک انکشاف ہے، آڈٹ شدہ فگر نہیں۔ اتنی بڑی رقم کا جانا بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف "چوکیداری" کا نہیں بلکہ ڈیمانڈ، منافع اور اعتماد کا ہے۔ جب تک پاکستان میں سرمایہ رکھنا رسکی لگے گا اور دبئی/لندن میں محفوظ، تب تک ہنڈی والے "ایک دو بندے" نئے آتے رہیں گے، چاہے ایجنسیاں جتنی بھی الرٹ ہوں۔آپ کا اس پر کیا خیال ہے — ترغیب سے پیسہ واپس آئے گا یا سخت کریک ڈاؤن ضروری ہے؟

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری