Posts

کشمیر جل رہا ہے اور چند ہوس پرست اقتدار کی ہولی کھیل رہے ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ن لیگ اور زرداری لیگ اپنی اقتدار کی بھوک میں کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ کشمیر کے عوام دہائیوں سے حق خودارادیت، مہنگائی، آٹے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناپاک ہتھکنڈوں سے اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوش کی۔ن لیگ نے ہمیشہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلے تو اس کی مقامی قیادت نے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بہتر سمجھا۔ پولیس اور انتظامیہ کو آگے کر کے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، اور میڈیا پر پابندیاں لگا کر اصل صورتحال چھپانے کی کوش ہوئی۔ دوسری طرف زرداری لیگ نے بھی ماضی کی طرح موقع پرستی کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف بیانات میں کشمیریوں سے ہمدردی کے دعوے، اور دوسری طرف اقتدار کی خاطر اسی مکاری چالبازی بندوق کے ذریعے عوامی تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا۔ دونوں جماعتوں نے کشمیر کے اندر اپنی اپنی گروپ بندیوں کو فنڈز اور سرکاری مشینری دی تاکہ اصل عوامی نمائندوں کی آواز دبائی جا سکے۔ اس ٹکراؤ...

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

Image
ایران کے عرب ممالک میں قائم اسرائیلی اڈوں پر حملے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کا توازن بدل رہے ہیں۔ اس سے خطے میں نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے اور ہر ملک کو اپنا موقف واضح کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ کرپٹ عناصر اس لیے بے چین ہیں کیونکہ ان کے مفادات بیرونی طاقتوں اور خلیجی سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے ماضی میں دوغلی پالیسی اپنائی: ایک طرف عوام کے سامنے مزاحمت اور خودمختاری کی بات، دوسری طرف پردے کے پیچھے ایسے معاہدے اور تعلقات جو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی فائدے کے لیے تھے۔ جب ایران کھل کر اسرائیلی موجودگی کو نشانہ بناتا ہے تو یہ دوغلا بیانیہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اس بے نقابی سے دو نقصان ہوتے ہیں۔ پہلا، ان کے بیرونی سرپرست ناراض ہوتے ہیں اور فنڈنگ یا ویزے بند ہونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا، عوام کو سچ نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھتے ہیں کہ پالیسی کیا ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے ملک و قوم میں نفرت پھیل رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیادت اصولوں پر نہیں، مفادات پر فیصلے کر رہی ہے۔ جب عوام کو لگے کہ حکمران دباؤ میں آ کر قوم کے جذبات بیچ رہے ہیں تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور مایوسی نفرت میں بدل جاتی ہے۔

زرداری لیگ کی جبری حکمرانی نامنظور،کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گے! مسعود حسین جعفری

Image
آزاد کشمیر کے عوام آج ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ کشمیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی جبری سیاست کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی زبردستی کی ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ مقامی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر فیصلے اسلام آباد سے مسلط کیے جائیں، اور کشمیریوں کی نمائندہ آواز کو دبایا جائے۔ کشمیریوں کا موقف ہے کہ ان کے وسائل، خودمختاری اور سیاسی فیصلوں پر پہلے ہی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک نئی سازش کے تحت کشمیری پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو حاشیے پر دھکیل کر ایک ہی جماعت کی اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب کشمیر کے اندر جمہوری جماعتیں موجود ہیں تو باہر سے مسلط کردہ قیادت کی کیا ضرورت ہے؟ بلاول پر الزام ہے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق غضب کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈکٹیٹ کیے گئے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مس...

ایران مخالف بیانیہ، اسرائیل کے حامی مولویوں کے ترتیب وار حملے، مسعود حسین جعفری

Image
پاکستان میں بھی اب صورتحال دیگر اسلامی ممالک جیسی بنتی جا رہی ہے جہاں مذہبی طبقہ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی پاکستانی مولوی ٹی وی چینلز، جمعہ کے خطبات اور سوشل میڈیا پر ایران کو اصل فتنہ قرار دے کر اسرائیل کے موقف کو بالواسطہ درست ثابت کر رہے ہیں۔ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ خطے کا اصل خطرہ ایران ہے، اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا وقت کی ضرورت ہے۔اس میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خاموش رضامندی بھی شامل ہے۔ پالیسی سطح پر جب تعلقات کو نرم کرنے کے اشارے دیے جاتے ہیں تو مذہبی طبقے کو گرین سگنل مل جاتا ہے کہ وہ عوام کو ذہنی طور پر تیار کرے۔ اسی لیے اب ایسے مولوی سامنے آ رہے ہیں جو فلسطین کے بجائے "امت کی وحدت" اور "ایرانی توسیع پسندی" کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔پاکستانی مولویوں کا سب سے اہم کردار ایران مخالف بیانیہ بنانا ہے۔ وہ شیعہ-سنی تفریق کو ہوا دے کر ایران کو امت کا دشمن ثابت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ یوں مذہب، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی لائن ایک ہی سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے: ایران کے خلاف ...

پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال، انتہائی اختصار کے ساتھ، مسعود حسین جعفری

Image
پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال انتہائی اختصار سے یہ ہے کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے سول، فوجی اور مخلوط حکومتی ادوار آتے رہے ہیں۔ آئین پاکستان جمہوری نظام، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب بھی آمریت، ڈکٹیٹرشپ یا غیر جمہوری مداخلت کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد وہ ادوار لیے جاتے ہیں جن میں منتخب نمائندوں کے بجائے غیر آئینی طریقے سے اقتدار سنبھالا گیا، بنیادی حقوق معطل ہوئے، یا سیاسی مخالفین پر کریک ڈاؤن ہوا۔ "ظلم و جبر"، "فرعونیت" اور "شہریوں کا قتلِ عام" جیسے الفاظ عام طور پر انسانی حقوق کی پامالیوں، لاپتہ افراد، ماورائے عدالت کارروائیوں اور پرتشدد واقعات پر عوامی ردعمل میں استعمال ہوتے ہیں۔ کھلی کرپشن کا بیانیہ شفافیت، احتساب کے اداروں کی کارکردگی اور بڑے مالی اسکینڈلز سے جڑا ہے۔ 2 خاندان بندوق کے زور پر مسلط ایک سیاسی نعرہ ہے جو مخصوص سیاسی گھرانوں کے تسلط اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کے لیے بولا جاتا ہے، مگر اس کی تصدیق کے لیے آئینی، عدالتی اور انتخابی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔ جمہوری استحکام کے لیے آزاد انت...

سندھ حکومت/بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
سندھ حکومت نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے بجائے صرف الفاظ کا ہیر پھیر لگتا ہے۔ تقریر میں "ترقی، خوشحالی اور عوام دوست اقدامات" کے نعرے تو بہت بلند کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آیا۔ تعلیم اور صحت کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن پچھلے سالوں کی طرح فنڈز کی اصل تقسیم اور خرچ کا طریقہ کار مبہم رکھا گیا۔ کراچی، حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کی سڑکوں، پانی اور نکاسی کے مسائل پر پرانے وعدے ہی دہرا دیے گئے۔ نئے منصوبوں کے نام تو رکھ دیے گئے، مگر ان کی تکمیل کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ ٹیکس اور سبسڈی کے اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سننے میں ریلیف لگے، مگر مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی جیب پر بوجھ ہی بڑھے گا۔ "ڈیجیٹل سندھ" اور "گرین انرجی" جیسے الفاظ استعمال کر کے بجٹ کو جدید دکھانے کی کوش کی گئی، مگر عملی منصوبہ بندی غائب ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ مسائل کا حل کم اور لفظی دلاسہ زیادہ لگتا ہے۔ کاغذ پر سب کچھ بہتر ہے، مگر عوام کو اس سے کتنا فائدہ پہنچے گا، ی...

ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل! مسعود حسین جعفری

Image
ارباب اختیار و اقتدار و مجاز اور اقتدار کا کھیل۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اربابِ اختیار سیاسی قیادت کا انتخاب ووٹ کی پرچی سے نہیں بلکہ بند کمروں میں انٹرویو اور ڈیل کے تحت کرتی ہے۔ عوام کو الیکشن کے نام پر ایک ڈرامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا تاثر قائم رہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔جسے اسٹبلشمنٹ منظور کر لے، اقتدار اس کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جسے ناپسند کر لیا جائے، اس سے اقتدار واپس چھین لیا جاتا ہے۔ یہ چھیننا کبھی عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی احتساب کے نام پر، اور کبھی "غیر آئینی" کہہ کر۔ عوامی مینڈیٹ کی حیثیت صرف ایک رسمی مہر کی رہ جاتی ہے۔الیکشن مہم، جلسے، نعرے، سب کچھ صرف دھوکا ہے۔ اصل سلیکشن پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں پانچ سال پورے نہیں کر پاتیں۔ جس دن اسٹبلشمنٹ کا من پسند تبدیل ہو جائے، اسی دن حکومت کی قسمت بھی بدل جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا اقتدار کس کو دیا جائے گا۔ پرانا چہرہ واپس لایا جائے گا یا کوئی نیا من پسند سامنے آئے گا۔ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا، فیصلہ وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔میرے محب وطن ہم وطنوں ک...