Posts

From the window of history

Image
Skip to content International News Network From the windows of history Jun 29 2022 Actually, if we talk about the religious revolution so very powerful important personalities here. The period from policy of Aristotle is called the ancient period of history of philosophy in which the scholars continue to present their views on Man and the universe and the creator of the universe according to their own intellect. The ideas of these philosophers, especially Plato and Aristotle, continue to guide human though to this day. We may differ from many of the ideas of these philosophers, but they promoted human thought, thought their knowledge, thought and research. The time after Aristotle is the time of Lord Jesus who introduced the philosophy of life along with the philosophy of monotheism. The advent of Lord Jesus brought about a tremendous change in human thought and Lord Jesus thought on the creation of the human universe, it’s creator and it’s purpose in life gave a new directions to huma...

مملکت خداداد

Image
  مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان خوش نصیب دولت مند ممالک میں سے ایک ملک ہے مگر افسوس خاندانی ملوکیت و آمریت نے اس کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔سیاسی دکانداری چمکانے اور اقتدار کو خاندان تک محدود کرنے کے لیے ہر وہ ناجائز کام کیا گیا جس کی بدولت ملک و قوم کو بربادیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر ایوب خان کے دور حکومت میں پاکستان کو ایک عظیم الشان سلطنت کی حثیت سے پہچانا جاتا تھا۔  اس ٹھوس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا میں پاکستان کا نام صدر ایوب خان نے روشن کیا ترقیاتی معملات ہوں یا معاشی دونوں صورتوں میں دنیا کو حیران و پریشانی میں مبتلا کردیا تھا ملک کی ترقی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ آج کا ترقی یافتہ ملک بھی حیران تھا بالخصوص ان پاکستانیوں کی رات دن کی محنت جو مملکت خداداد کو بنانے میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر گئے تھے ان کی عظمت کو آج بھی مخلص اور محب وطن پاکستانی سلام پیش کرتے ہیں اور دنیا ان کی قربانیوں سے واقف ہے بطور مثال اس نوزائیدہ مملکت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے پر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑا کرنے والے ایک طرح سے بری طرح بر...

Best choice

Presented by: Afroz Advertising Agency Karachi. All design and style update here. Please don't hesitate to contact. afrozadvertising@gmail.com 0315-2293055  

شیر کا جگر اور نظر عقاب۔ فخر عرض پاک۔

Image
شیر کا جگر اور نظر عقاب۔ فخر عرض پاک۔ کراچی (مسعود حسین جعفری)عرض پاک کی سرحدوں پر بہادری سے دفاع کے لیے صبح و شام اپنی خدمات سر انجام دینے والے دنیا بھر میں صلاحیت اور سخت ترین تربیت کے حوالے سے نہ صرف مشہور ہیں بلکہ دشمنوں کے لئے ایک خوف کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کمانڈوز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پوری دنیا کے نمبر ون کمانڈوز قرار دئیے جاتے ہیں۔ دنیا کے کسی کمانڈو میں یہ صلاحیت نہیں کہ 75 گھنٹوں تک بھوک پیاس برداشت کرتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے سکیں ماسوائے پاکستانی کمانڈوز کے۔ دنیا بھر میں اتنے سخت جان کمانڈوز کہیں نہیں پائے جاتے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے طویل گھنٹوں کی بھوک پیاس سے پاکستانی کمانڈوز کی کارکردگی میں زرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا اور یہ معمول کے مطابق کام کرتے رہتے ہیں۔ سخت ترین تربیت کے بعد ایک اور اہم صلاحیت جو پاکستانی کمانڈوز کو دنیا کے دوسرے تمام کمانڈوز سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کمانڈوز 28 ہزار فٹ کی بلندی سے بھی پیرا شوٹ لگا کر فری فال کر کے اپنے ٹارگٹ پر بآسانی پہنچ سکتے ہیں۔ کیپٹن روح اللہ شہید۔ لیفٹیننٹ کرنل عامر وحید شہ...

سندھ میں بڑھتی آمریت

Image
حکومت سندھ کی آمریت نہ جانے کیا کیا رنگ لائے گی۔ کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) آمریت کے رنگ سے مزین ملوکیت کی سفاکیت عالمی سطح پر ایک خطرناک موضوع بن کر ابھری ہے۔ عرض پاک میں تو پہلے ہی اتنے چرچے تھے کہ ہر گلی محلہ میں کراچی سے خیبر تک پورے پورے خاندان عوامی فطرہ زکات تک ہڑپ کرنے میں مستند شہرت یافتہ تسلیم کیے جاتے تھے اب جب کہ نئ ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پا چکی ہے اور مزید پاتی جارہی ہے اس کی بدولت ہر لمحہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ مظلوم صوبہ سندھ میں ظالم کی آمریت کا سورج اپنے پورے جاہ و جلال سے چمک رہا ہے کہ فرعون و آل فرعون بھی متجسس ہے۔ سندھ پر قابض بادشاہوں کی ملوکیت میں روزانہ ناظم جوکھیوں بار بار قتل کیے جاتے ہیں لیکن نہ تو قاتلوں کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سزا کا تصور پایا جاتا ہے۔ ظالموں کے نمک خواروں کی اکثریت کسی نہ کسی جرم میں باقاعدہ ملوٹ پائ جاتی ہے اور ہر معاملہ مشکوک قرار پایا جاتا ہے جو کہ زیر تفتیش بھی ہے مالی بدعنوانیوں کے مقدمات پر بات کی جائے تو ردی سے کمرے بھر جائیں اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھے۔ میہڑ کی بات کی جائے تو باپ چچا ...

قرارداد پاکستان

Image
برصغیر پاک وہند میں عظیم الشان جدگانہ آزاد مملکت کی سوچ اور مطالبہ قدیم و دیرینہ حیثیت کا حامل تھا باالخصوص نوجوان نسل جو کہ عرض پاک کا تابناک مستقبل ہیں ان کے علم میں ہونا چاہیے کہ برصغیر پاک وہند میں خودمختار مملکت کا مطالبہ نیا نہیں تھا بلکہ قدیم اور خاص طور پر مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ خواہش و مطالبہ تھا۔ اس مطالبے کو قابل عمل اور واضح صورت میں 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں سالانہ اجلاس لاہور میں پیش کیا گیا۔اس اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت بنگال کے نمائندے مولوی ابو القاسم فضل حق نے وہ عظیم قرارداد پیش کی جو تاریخ میں سرکاری طور پر قرارداد لاہور کے نام سے درج ہے۔ مگر 1946 میں قرارداد دہلی کے ساتھ مل کر قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئ۔ جاننا چاہیے کہ قرارداد لاہور کی تائید یو پی کے نمائندے چوہدری خلیق الزماں نے کی تھی اور اردو زبان میں ترجمہ کے فرائض مولانا ظفر علی خان نے ادا کیے تھے۔ دیگر مسلم اکابرین جنہوں نے قرارداد کے حق میں مدلل تقاریر کیں ان میں خان اورنگزیب خان، سر عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، بیگم مولانا محمد علی جوہر، ائ۔ائ چ...

شہر قائد کی حالت زار

Image
شہر قائد میں مسلسل تجاوزات اور جرائم میں اضافہ معنی خیز ہے۔ انتظامیہ کی خاموشی اور جرائم کی پردہ پوشی سے نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہر طرف مافیاز کا راج جو دیدہ دلیری سے عوامی خون چوسنے میں مصروف ہیں۔   11 اپریل سے اب تک ملک و قوم بحران کا شکار ہیں ان تمام بحرانوں کا براہ راست اثر عوام پر بھیانک انداز میں پڑا ہے جس کا ازالہ بظاہر دیکھائی نہیں دیتا کوئ طاقت سے ٹکرا کر پریشان ہے تو کوئ سجدہ ریز ہوکر منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ ان تمام پریشانیوں کا باعث بننے والے عناصر اقتدار کی بھوک میں ملک و ملت کے درد کا مداوا کرنے سے مسلسل قاصر رہے ہیں ماضی میں جوڑ توڑ اور خرید وفروخت کرنے والے اور ان کے سہولت کار اب اپنی نسلوں کو اقتدار کی اعلیٰ مسند پر دیکھنے کے لیے بے چین اور اس سلسلے میں کوئ بھی طریقہ اختیار کرنے کے لیے تیار بھی۔ ملک جب بھی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ وہ سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جو صرف ایک ہی خاندان کے زیر اثر ہوں اور جس میں تمام تر طاقت اہل خانہ کو حاصل ہو ماضی سے لے کر اب تک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ان خاندانوں کی پرورش کرنے کے لیے ملک کے ایسے خطے پر ...