قرارداد پاکستان
برصغیر پاک وہند میں عظیم الشان جدگانہ آزاد مملکت کی سوچ اور مطالبہ قدیم و دیرینہ حیثیت کا حامل تھا
باالخصوص نوجوان نسل جو کہ عرض پاک کا تابناک مستقبل ہیں ان کے علم میں ہونا چاہیے کہ برصغیر پاک وہند میں خودمختار مملکت کا مطالبہ نیا نہیں تھا بلکہ قدیم اور خاص طور پر مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ خواہش و مطالبہ تھا۔ اس مطالبے کو قابل عمل اور واضح صورت میں 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں سالانہ اجلاس لاہور میں پیش کیا گیا۔اس اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت بنگال کے نمائندے مولوی ابو القاسم فضل حق نے وہ عظیم قرارداد پیش کی جو تاریخ میں سرکاری طور پر قرارداد لاہور کے نام سے درج ہے۔ مگر 1946 میں قرارداد دہلی کے ساتھ مل کر قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئ۔ جاننا چاہیے کہ قرارداد لاہور کی تائید یو پی کے نمائندے چوہدری خلیق الزماں نے کی تھی اور اردو زبان میں ترجمہ کے فرائض مولانا ظفر علی خان نے ادا کیے تھے۔ دیگر مسلم اکابرین جنہوں نے قرارداد کے حق میں مدلل تقاریر کیں ان میں خان اورنگزیب خان، سر عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، بیگم مولانا محمد علی جوہر، ائ۔ائ چندریگر، مولانا عبد الحامد بدایونی و دیگر ان میں پیش پیش تھے۔ قرارداد لاہور کے محرک اور تائید کنندگان کی تقاریر میں پاکستان کا لفظ تک استعمال نہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کو محض تقسیم ہند کی قرارداد کہا جاتا تھا۔ محترمہ امجدی بیگم زوجہ مولانا محمد علی جوہر نے اپنی تقریر میں اس قرارداد کو پاکستان کی قرارداد کہا اور وہ بھی اس وجہ سے کہ چوہدری رحمت علی کی کوشش سے لفظ پاکستان مشہور ہوچکا تھا۔ لیکن کانگریس کے ہندوؤں کے لے پالک میڈیا اور پریس نے طنزاً اس نام کو اس قدر اچھالا کہ یہی نام مسلمانان ہند کی پہچان اور نصب العین بن کر کبھی نہ مٹنے کے لیے ابھرا۔
آج ہم اتنی محنت و قربانیوں کے بعد اپنے گھر میں بہ حفاظت رہتے ہیں جبکہ کچھ ناعاقبت اندیش اسے محض ایک سیاسی کھیل سمجھ کر دشمنوں کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔نوجوانان پاکستان اس دن کی نسبت سے ملک و قوم سے وعدہ کریں کہ کسی ناہنجار کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے اور اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی عقیدت و احترام اور وفاداری کا پاس رکھیں گے۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد
Comments
Post a Comment
Any