سندھ میں بڑھتی آمریت
حکومت سندھ کی آمریت نہ جانے کیا کیا رنگ لائے گی۔
کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) آمریت کے رنگ سے مزین ملوکیت کی سفاکیت عالمی سطح پر ایک خطرناک موضوع بن کر ابھری ہے۔ عرض پاک میں تو پہلے ہی اتنے چرچے تھے کہ ہر گلی محلہ میں کراچی سے خیبر تک پورے پورے خاندان عوامی فطرہ زکات تک ہڑپ کرنے میں مستند شہرت یافتہ تسلیم کیے جاتے تھے اب جب کہ نئ ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پا چکی ہے اور مزید پاتی جارہی ہے اس کی بدولت ہر لمحہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ مظلوم صوبہ سندھ میں ظالم کی آمریت کا سورج اپنے پورے جاہ و جلال سے چمک رہا ہے کہ فرعون و آل فرعون بھی متجسس ہے۔ سندھ پر قابض بادشاہوں کی ملوکیت میں روزانہ ناظم جوکھیوں بار بار قتل کیے جاتے ہیں لیکن نہ تو قاتلوں کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سزا کا تصور پایا جاتا ہے۔ ظالموں کے نمک خواروں کی اکثریت کسی نہ کسی جرم میں باقاعدہ ملوٹ پائ جاتی ہے اور ہر معاملہ مشکوک قرار پایا جاتا ہے جو کہ زیر تفتیش بھی ہے مالی بدعنوانیوں کے مقدمات پر بات کی جائے تو ردی سے کمرے بھر جائیں اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھے۔ میہڑ کی بات کی جائے تو باپ چچا اور دادا کے قتل کے الزام۔ ام رباب کی بات ہو تو انسانیت کا سر جھک جائے۔ ظالموں نے ناظم جوکھیوں کو بے دردی و سفاکی سے شہید کردیا مظلوم کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ظالموں کی عیاشیاں عرب شہزادوں کے ساتھ قلم بند کرلی تھیں۔ مظلوم کے چہرے کو گرم استری سے داغا گیا بازوؤں کو سفاکی سے توڑا گیا کلائیوں پر بندھی رسی اس سفاکی سے باندھی گئی تھی کہ کلائیاں سوجھ گئ تھی جسم کے مخصوص پوشیدہ نازک حصوں پر تشدد کے گہرے نشانات مظلوم کی بے بسی اور ظالم کی طاقت کا مظہر تھے۔ ملوکیت کے نشے میں چور ظالمانہ سلوک روا رکھنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کس کو پکارا جائے ؟
کیا اس ظالمانہ ملوکیت کے خلاف کارروائی ہوگی ؟
کیا بھانت بھانت کے اتحاد اس ظلم پر آواز اٹھائیں گے ؟
کیا اب بھی خرید وفروخت کرکے مظلوم کے خون کا حساب لینے والا کوئ نہ ہوگا ؟


Comments
Post a Comment
Any