مملکت خداداد

 

مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان خوش نصیب دولت مند ممالک میں سے ایک ملک ہے مگر افسوس خاندانی ملوکیت و آمریت نے اس کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔سیاسی دکانداری چمکانے اور اقتدار کو خاندان تک محدود کرنے کے لیے ہر وہ ناجائز کام کیا گیا جس کی بدولت ملک و قوم کو بربادیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر ایوب خان کے دور حکومت میں پاکستان کو ایک عظیم الشان سلطنت کی حثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ 

اس ٹھوس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا میں پاکستان کا نام صدر ایوب خان نے روشن کیا ترقیاتی معملات ہوں یا معاشی دونوں صورتوں میں دنیا کو حیران و پریشانی میں مبتلا کردیا تھا ملک کی ترقی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ آج کا ترقی یافتہ ملک بھی حیران تھا بالخصوص ان پاکستانیوں کی رات دن کی محنت جو مملکت خداداد کو بنانے میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر گئے تھے ان کی عظمت کو آج بھی مخلص اور محب وطن پاکستانی سلام پیش کرتے ہیں اور دنیا ان کی قربانیوں سے واقف ہے بطور مثال اس نوزائیدہ مملکت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے پر پیش کرتے ہیں۔

پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑا کرنے والے ایک طرح سے بری طرح برباد ہوکر آئے تھے لیکن شب و روز کی محنت اور  جذبہ حب الوطنی میں ملک کو ایک طاقتور ترین بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔ مہاجرین کی قربانی اور محنت دیکھ کر عرب ممالک کا تو یہ حال تھا کہ وہ مہاجرین کو سر آنکھوں پر بٹھایا کرتے اور عزت کا مقام یہ تھا کہ پاکستان عربوں کے خوابوں کی تعبیر اور قربانی دے کر ملک بنانے والے ان کے  لیے عظیم تر ہستیاں تھیں۔


بتاتیں بنانے والے بہت بڑی بڑی باتیں بنانے ہیں اور ثقافت کے نام پر خرافات کو تاریخ کا حصہ بتاتے ہیں جو کہ سراسر من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ ثقافتی معملات کو سہرا بھی مہاجرین کے سر جاتا ہے جسے صدر ایوب خان کے دور حکومت میں بطور قومی ثقافت متعارف کرایا گیا ۔ یہ ایوب خان ہی تھے جنہوں نے شہر قائد میں ثقافتی میلے کا باقاعدہ انعقاد کیا۔

اس ثقافتی میلے کو منعقد کرنے میں فیض احمد فیض پیش پیش تھے وہ کراچی کے علاقے سوسائٹی میں رہائش پذیر تھے۔ 

ایک مرتبہ روس کے دورے پر گئے تو ان سے پاکستان کی ثقافت کے بارے میں سوالات کیے گئے کہ پاکستان کی ثقافت کیا ہے ؟ 

اس سے پہلے تک کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان کی ثقافت کیا ہے۔ اس وقت بھی یہی مہاجرین تھے جو امور سلطنت سر انجام دینے میں یکتا تھے اس طرح پاکستان کے عظیم دماغ اکھٹے ہوئے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری سطح پر محکمہ ثقافت کی داغ بیل ڈالی جائے 

فیض احمد فیض اس وقت کے بہترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے اور ایک منفرد مقام رکھتے تھے اس سلسلے میں جناب الطاف گوہر ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مسعود ، ممتاز مفتی کے نام بھی نمایاں تھے یہی تمام دانشور ایسے تھے جنہوں نے پاکستان کی ثقافت کا تعارف عام کیا۔ جبکہ نام نہاد دکاندار آج حق جتاتے نہیں تھکتے۔





Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری