سعودیہ، امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ اور تنہا یمن ، اصل کھیل کیا ہے؟ مسعود حسین جعفری
سعودیہ، امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ اور تنہا یمن ، اصل کھیل کیا ہے؟ یہ تجزیہ اس سوال پر ہے کہ آج مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ کھل کر امریکہ اور اسرائیل کھڑے ہیں جبکہ یمن کے پاس بظاہر کسی بڑی طاقت کی حمایت نہیں، تو آخر یہ سب کون کروا رہا ہے اور کیوں؟ سب سے پہلے زمینی حقیقت دیکھیں۔ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کا تعلق نیا نہیں، 1945 سے تیل کے بدلے سیکیورٹی کا معاہدہ چل رہا ہے۔ امریکہ سعودیہ کو ہتھیار دیتا ہے، سعودیہ ڈالر میں تیل بیچتا ہے۔ اب اسی مثلث میں اسرائیل کا اضافہ ہو گیا ہے، جسے ابراہم معاہدے کے بعد کھل کر سامنے لایا گیا۔ اس کا مقصد عرب دنیا اور اسرائیل کو ایک بلاک میں لا کر ایران کے خلاف ایک دیوار کھڑی کرنا ہے۔دوسری طرف یمن۔ یمن کو دنیا نے جان بوجھ کر تنہا رکھا ہے۔ یمن میں حوثی تحریک کو صرف ایران کی محدود اخلاقی و سیاسی حمایت حاصل ہے، لیکن کوئی باقاعدہ فوجی اتحاد نہیں۔ سعودی اتحاد نے 2015 سے یمن پر جنگ مسلط کی، ہزاروں بم برسائے، ناکہ بندی کی۔ دنیا خاموش رہی کیونکہ یمن کے پاس نہ تیل کی وہ طاقت ہے جو سعودیہ کے پاس ہے، نہ لابی۔ اب سوال کہ یہ سب کون کروا رہا ہے؟ اس کے دو بڑے محرکات ہیں۔اسلحہ اور تیل کی معیشت، امریکہ کی معیشت کا بڑا ستون اسلحہ سازی ہے۔ جب تک مشرق وسطیٰ میں جنگ رہے گی، سعودیہ، امارات جیسے ملک اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدتے رہیں گے۔ یمن کی جنگ سعودیہ کو 300 ارب ڈالر سے زائد کا اسلحہ خریدنے پر مجبور کر چکی ہے۔ امن ہو گیا تو یہ کاروبار ختم۔ گریٹر اسرائیل منصوبہ اسرائیل کی دیرینہ خواہش ہے کہ اس کے آس پاس کوئی مضبوط عرب ریاست نہ رہے۔ عراق تباہ، شام تباہ، لیبیا تباہ، اب یمن کی باری ہے۔ یمن باب المندب جیسی اہم سمندری گزرگاہ پر بیٹھا ہے جہاں سے دنیا کی 30 فیصد تجارت گزرتی ہے۔ اگر یمن خودمختار اور مضبوط ہو گیا تو اسرائیل اور امریکہ کا بحیرہ احمر پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔یمن کو سزا اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ اس نے سعودی امریکی غلبے کو چیلنج کیا اور فلسطین کے حق میں کھل کر اسرائیل کے خلاف بحیرہ احمر میں کارروائیاں کیں۔خلاصہ یہ کہ یہ لڑائی فرقہ واریت کی نہیں، وسائل، راستوں اور ہتھیاروں کے کاروبار کی ہے۔

Comments
Post a Comment
Any