Posts

Showing posts from September, 2026

ریڈ لائن دراصل اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے! مسعود حسین جعفری

Image
شہباز شریف کا یہ کہنا کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور ڈرون حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، کوئی اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کو پاکستان کی سلامتی یا خطے کے امن سے کوئی دلچسپی نہیں، ان کی اصل فکر سعودی عرب میں کی گئی اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔سب جانتے ہیں کہ شریف خاندان کا کاروباری سلطنت کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب میں قائم ہے۔ وہاں ان کی فیکٹریاں، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں۔ پاکستان سے جو سرمایہ پچھلے چالیس سال میں منتقل کیا گیا، اس کا بڑا حصہ خلیجی ریاستوں میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر سعودی عرب میں عدم استحکام آتا ہے یا ڈرون حملوں سے وہاں کے معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو سب سے پہلا نقصان شریف خاندان جیسے ان سیاستدانوں کو ہوگا جنہوں نے اپنا سب کچھ باہر رکھا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ریڈ لائن پاکستان کے لیے نہیں، اپنی دولت کے لیے کھینچی گئی ہے۔ جب پاکستان پر ڈرون حملے ہوتے تھے، جب وزیرستان میں آپریشن ہوتے تھے، اس وقت ایسی ریڈ لائن کبھی نظر نہیں آئی۔ لیکن جہاں اپنی جائیداد پر آنچ آنے کا خطرہ ہو، وہاں فوراً بیان آجات...

ریڈ لائن دراصل اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے! مسعود حسین جعفری

Image
شہباز شریف کا یہ کہنا کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور ڈرون حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، کوئی اصولی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری بیان ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کو پاکستان کی سلامتی یا خطے کے امن سے کوئی دلچسپی نہیں، ان کی اصل فکر سعودی عرب میں کی گئی اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔سب جانتے ہیں کہ شریف خاندان کا کاروباری سلطنت کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب میں قائم ہے۔ وہاں ان کی فیکٹریاں، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں۔ پاکستان سے جو سرمایہ پچھلے چالیس سال میں منتقل کیا گیا، اس کا بڑا حصہ خلیجی ریاستوں میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر سعودی عرب میں عدم استحکام آتا ہے یا ڈرون حملوں سے وہاں کے معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو سب سے پہلا نقصان شریف خاندان جیسے ان سیاستدانوں کو ہوگا جنہوں نے اپنا سب کچھ باہر رکھا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ریڈ لائن پاکستان کے لیے نہیں، اپنی دولت کے لیے کھینچی گئی ہے۔ جب پاکستان پر ڈرون حملے ہوتے تھے، جب وزیرستان میں آپریشن ہوتے تھے، اس وقت ایسی ریڈ لائن کبھی نظر نہیں آئی۔ لیکن جہاں اپنی جائیداد پر آنچ آنے کا خطرہ ہو، وہاں فوراً بیان آجات...

سعودیہ، امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ اور تنہا یمن ، اصل کھیل کیا ہے؟ مسعود حسین جعفری

Image
سعودیہ، امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ اور تنہا یمن ، اصل کھیل کیا ہے؟ یہ تجزیہ اس سوال پر ہے کہ آج مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ کھل کر امریکہ اور اسرائیل کھڑے ہیں جبکہ یمن کے پاس بظاہر کسی بڑی طاقت کی حمایت نہیں، تو آخر یہ سب کون کروا رہا ہے اور کیوں؟ سب سے پہلے زمینی حقیقت دیکھیں۔ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کا تعلق نیا نہیں، 1945 سے تیل کے بدلے سیکیورٹی کا معاہدہ چل رہا ہے۔ امریکہ سعودیہ کو ہتھیار دیتا ہے، سعودیہ ڈالر میں تیل بیچتا ہے۔ اب اسی مثلث میں اسرائیل کا اضافہ ہو گیا ہے، جسے ابراہم معاہدے کے بعد کھل کر سامنے لایا گیا۔ اس کا مقصد عرب دنیا اور اسرائیل کو ایک بلاک میں لا کر ایران کے خلاف ایک دیوار کھڑی کرنا ہے۔دوسری طرف یمن۔ یمن کو دنیا نے جان بوجھ کر تنہا رکھا ہے۔ یمن میں حوثی تحریک کو صرف ایران کی محدود اخلاقی و سیاسی حمایت حاصل ہے، لیکن کوئی باقاعدہ فوجی اتحاد نہیں۔ سعودی اتحاد نے 2015 سے یمن پر جنگ مسلط کی، ہزاروں بم برسائے، ناکہ بندی کی۔ دنیا خاموش رہی کیونکہ یمن کے پاس نہ تیل کی وہ طاقت ہے جو سعودیہ کے پاس ہے، نہ لابی۔ اب سوال کہ یہ سب کون کروا رہا ہے؟ اس کے دو بڑے محرکات ہیں۔ا...

پاکستان مکہ معاہدے کے تحت ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ مسعود حسین جعفری

Image
کیا پاکستان مکہ معاہدے کے تحت ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ سوشل میڈیا پر ان دنوں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ کیا پاکستان "مکہ معاہدے" کے تحت ایران پر حملہ کر دے گا، اور کیا امریکہ و اسرائیل یہ چاہتے ہیں کہ تمام اسلامی ممالک مل کر ایران کو نشانہ بنائیں۔ اس دعوے میں حقیقت سے زیادہ پروپیگنڈہ ہے۔سب سے پہلے "مکہ معاہدے" کو سمجھنا ضروری ہے۔ دراصل مکہ معاہدہ نام کی کوئی ایسی دستاویز موجود نہیں جس کے تحت پاکستان کسی مسلم ملک پر حملہ کرنے کا پابند ہو۔ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ضرور ہے، خاص طور پر "اسلامی فوجی اتحاد" جو 2015 میں دہشت گردی کے خلاف بنا تھا۔ اس کا مقصد کسی اسلامی ملک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ ایران اس اتحاد کا حصہ نہیں، لیکن یہ اتحاد ایران کے خلاف جنگی اتحاد نہیں ہے۔دوسرا سوال، کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے؟ جواب بالکل نہیں۔ پاکستان خود شدید معاشی بحران، داخلی سیکیورٹی چیلنجز اور افغان بارڈر    کشیدگی میں گھرا ہوا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، دونوں کے درمیان 900 کلومیٹر سے زائد سرحد ہ...