Posts

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

Image
واٹر بورڈ کی نااہلی کا خاتمہ احتساب گرفتاری اور نئی ٹیم ناگزیر ہے۔پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن جب یہی پانی نلکوں سے غائب ہو جائے گلیوں میں بہتا نظر آئے یا مہینوں سے بند موٹر کی وجہ سے پورا محلہ پیاسا رہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ ادارہ نہیں نااہلی راج کر رہی ہے۔ آج کراچی سمیت پورے سندھ میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن جسے عام زبان میں واٹر بورڈ کہا جاتا ہے اسی نااہلی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔کبھی موٹر خراب کبھی لائن پھٹ گئی یہ حادثہ نہیں پالیسی ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے شہری ایک ہی رونا رو رہے ہیں گرمی بڑھتے ہی پانی کی قلت رات گئے تک موٹریں نہ چلنا پرانی اور بوسیدہ لائنوں کا پھٹ جانا اور پھر ہفتوں تک مرمت کے نام پر خاموشی جب شکایت کی جائے تو جواب ایک ہی ملتا ہے۔کبھی موٹر جل گئی تو کبھی مین لائن لیک ہو گئی تو کبھی فنڈز نہیں آئے وغیرہ وغیرہ سوال یہ ہے کہ یہ موٹر ہر سال ہی کیوں جلتی ہے؟ یہ لائن صرف غریب علاقوں میں ہی کیوں پھٹتی ہے؟ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود نئی پائپ لائن کیوں نہیں بچھتی؟ اصل مسئلہ تکنیکی نہیں انتظامی اور اخلاقی ہے۔ جب ادارے کے سربراہ سے لے کر فیلڈ اسٹاف تک جوابدہی ...

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی قوم زیادہ دیر تک ظلم برداشت نہیں کرتی! مسعود حسین جعفری

Image
پاکستان کا قیام ہی اس وعدے پر ہوا تھا کہ یہاں عوام خود مختار ہوں گے۔ آئین نے بنیادی حقوق دیے، جمہوریت کا نعرہ لگایا، اور ریاست کو عوام کی خادم کہا گیا۔ مگر 76 سال بعد سوال یہ ہے کہ کیا حکمران واقعی عوام کے حقوق کے محافظ ہیں یا انہی حقوق کو غضب کرنے والے سب سے بڑے دشمن؟ جب ریاست خود عوام سے ان کا رزق، انصاف، آزادیٔ اظہار اور عزتِ نفس چھین لے تو ملک ٹوٹنے سے نہیں بچ سکتا اور عوام کا بپھر جانا فطری ردعمل بن جاتا ہے۔مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی کی کمر توڑ چکا ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتیں ہر ماہ بڑھتی ہیں، مگر تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں۔ کسان کی فصل کوڑیوں کے بھاؤ بکتی ہے اور کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمران طبقہ، بیوروکریسی اور اشرافیہ مراعات، پلاٹوں، مفت پٹرول اور غیر ملکی دوروں سے مستفید ہو رہی ہے۔ جب ایک طرف اشرافیہ عیش کرے اور دوسری طرف ماں اپنے بچے کے لیے دودھ نہ خرید سکے تو سماجی معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ معاشی ناانصافی بغاوت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔آئین ہر شہری کو برابر کا حق دیتا ہے، مگر عملی طور پر قانون صرف کمزور کے لیے ہے طاقتور کے لیے الگ قانون الگ عدالتیں ...

لبنان میں ہلاکتیں، جنگ بندی کے بعد بھی روزانہ حملے جاری ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
امریکہ کی ثالثی میں لبنان-اسرائیل کے درمیان 16-17 اپریل 2026 کو جنگ بندی ہوئی تھی، جسے بعد میں جون تک بڑھا دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے 18 مئی کو جنوبی لبنان میں نصف درجن سے زیادہ مقامات پر اسرائیلی فضائی حملوں کی رپورٹ دی۔ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتیں 3000 سے زائد ہیں۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 18 مئی 2026 تک اسرائیلی حملوں میں 3,020 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 292 خواتین اور 211 بچے شامل ہیں۔تازہ ترین تعداد 3,042 ہلاک ہوئے جن میں 211 بچے، 292 خواتین اور 116 میڈیکل ورکرز شامل ہیں۔جنگ کا آغاز 2 مارچ 2026 کو ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر فائرنگ کی یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے 2 دن بعد ہوا تھا۔ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی۔ جنگ بندی 17 اپریل سے نافذ ہونے کے باوجود کم از کم 740 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ UN نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے کم از کم 127 شہری مارے گئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے لوگوں کو روزانہ اسرائیلی حملے، مسماری اور بے دخلی کے احکامات کا سامنا ہے۔ اس تن...

لبنان میں ہلاکتیں، جنگ بندی کے بعد بھی روزانہ حملے جاری ہیں! مسعود حسین جعفری

Image
امریکہ کی ثالثی میں لبنان-اسرائیل کے درمیان 16-17 اپریل 2026 کو جنگ بندی ہوئی تھی، جسے بعد میں جون تک بڑھا دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے 18 مئی کو جنوبی لبنان میں نصف درجن سے زیادہ مقامات پر اسرائیلی فضائی حملوں کی رپورٹ دی۔ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتیں 3000 سے زائد ہیں۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 18 مئی 2026 تک اسرائیلی حملوں میں 3,020 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 292 خواتین اور 211 بچے شامل ہیں۔تازہ ترین تعداد 3,042 ہلاک ہوئے جن میں 211 بچے، 292 خواتین اور 116 میڈیکل ورکرز شامل ہیں۔جنگ کا آغاز 2 مارچ 2026 کو ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر فائرنگ کی یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے 2 دن بعد ہوا تھا۔ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی۔ جنگ بندی 17 اپریل سے نافذ ہونے کے باوجود کم از کم 740 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ UN نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے کم از کم 127 شہری مارے گئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے لوگوں کو روزانہ اسرائیلی حملے، مسماری اور بے دخلی کے احکامات کا سامنا ہے۔ اس تن...

واشنگٹن سے آنے والے اشارے نظر انداز کرنا ممکن نہیں! مسعود حسین جعفری

Image
بالکل یہی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ "چاہے" اور "نہ چاہے" کا آپشن ہی محدود ہے۔سب سے بڑی معاشی مجبوری یہ ہے کہ اس وقت بھی IMF کا پروگرام چل رہا ہے اگر امریکہ ناراض ہو جائے تو فنڈنگ قرضوں کی ری شیڈولنگ اور ٹریڈ پریفرنس سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں اس لیے واشنگٹن سے آنے والے اشارے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔افغانستان دہشتگردی اور انٹیل شیئرنگ میں ابھی بھی امریکہ سے رابطہ چاہیے۔ ایران کے ساتھ سرحد پر کشیدگی بڑھے تو پاکستان کو دونوں طرف سے پریشر ملتا ہے۔ ثالثی کر کے پاکستان کم از کم یہ میسج دے رہا ہے کہ ہم مسئلہ کا حصہ نہیں حل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔دوسری بڑی مجبوری پاکستان ایران اور انڈیا کے بیچ ہے اور پیچھے افغانستان نہ یہاں سے نکل سکتا ہے نہ لڑ سکتا ہے۔اگر ایران-امریکہ جنگ چھڑے تو سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا  تیل مہنگا مہاجرین کا سیلاب اور بلوچستان میں عدم استحکام۔ اس لیے ثالثی کرنا چوائس کم اور ڈیمج کنٹرول زیادہ ہے۔سچ یہ ہے کہ شارٹ ٹرم میں کوئی بڑا فائدہ نظر نہیں آتا۔لونگ ٹرم میں پاکستان یہ ثابت کرنے کی کوش کر رہا ہے کہ وہ خطے میں اسٹیبلائزر بن ...

کیا پاکستان اس وقت بیچ میں پِس رہا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس آپشن کم ہیں؟ مسعود حسین جعفری

Image
کیا پاکستان اس وقت بیچ میں پِس رہا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس آپشن کم ہیں؟ ایران امریکہ سے کہہ رہا ہے پیغام پاکستان کے ذریعے بھیجو امریکہ بھی پاکستان کو استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کے ایران سے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں۔مطلب پاکستان کی مرضی نہیں مجبوری ہے۔ اگر انکار کرے تو دونوں ناراض اگر کرے تو گالیاں بھی کھائے اور گارنٹی بھی کوئی نہیں۔لیکن یہ رگڑا کیوں لگ رہا ہے؟ لوگ کہتے ہیں پاکستان امریکہ کا آلہ کار بن گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی ٹوٹ گئی تو پاکستان کے سرحدی علاقے سب سے پہلے متاثر ہوں گے نہ امریکہ پاکستان کو کریڈٹ دے گا نہ ایران۔ اگر ڈیل ہوئی تو کریڈٹ بڑے لے جائیں گے اگر ناکام ہوئی تو الزام پاکستان پر آئے گا کہ ثالثی نہیں کر سکے۔بلوچستان اور سیستان کا بارڈر پہلے ہی حساس ہے ایران-امریکہ جنگ ہوئی تو دہشتگردی اور مہاجرین کا بوجھ سیدھا پاکستان پر آئے گا۔ تو پھر پاکستان کر کیا رہا ہے؟ یہ رگڑا اس لیے برداشت کر رہا ہے کیونکہ متبادل بدتر ہے۔اگر پاکستان انکار کر دے تو خطے میں جنگ کا امکان بڑھے گا اور وہ جنگ پاکستان کی مغربی سرحد پر لگے گی۔ایکٹو ثالثی سے پاکستان اپنے لیے تھوڑی سی لیوریج بن...

ایران کے 14 نکات کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ مسعود حسین جعفری

Image
 ایران کے 14 نکات کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ امریکہ کا مؤقف سخت ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی 14 نکاتی تجویز کو قابل قبول نہیں کہا۔امریکہ کی 5 شرائط سامنے آئی ہیں ایران صرف 1 جوہری پلانٹ چلائے، 400 کلو افزودہ یورینیم امریکہ کو دے، اور ایران کو جنگ کے نقصان کا معاوضہ نہ ملے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی یعنی وہ مزید دباؤ چاہتے ہیں۔ایران کا مؤقف بھی سخت ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری تنصیبات ختم کرنے یا انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی شرط قبول نہیں کرے گا۔ایران کہہ رہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔یعنی دونوں فریق کی ریڈ لائنز ٹکرا رہی ہیں۔ امریکہ جوہری پروگرام ختم کرنا چاہتا ہے، ایران صرف محدود کرنا چاہتا ہے۔جبکہ پاکستان کا دونوں سے اچھا رابطہ ہے امریکہ پاکستان کو افغانستان کے معاملے میں استعمال کرتا رہا ہے اور ایران ہمسایہ ہے۔اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی اس لیے اعتماد موجود ہے۔محسن نقوی کی تہران آمد اور اسد منیر کی حالیہ ملاقات سے لگتا ہے ایران سنجیدہ ہے۔ایران نے خود کہا ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے...