واشنگٹن سے آنے والے اشارے نظر انداز کرنا ممکن نہیں! مسعود حسین جعفری



بالکل یہی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ "چاہے" اور "نہ چاہے" کا آپشن ہی محدود ہے۔سب سے بڑی معاشی مجبوری یہ ہے کہ اس وقت بھی IMF کا پروگرام چل رہا ہے اگر امریکہ ناراض ہو جائے تو فنڈنگ قرضوں کی ری شیڈولنگ اور ٹریڈ پریفرنس سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں اس لیے واشنگٹن سے آنے والے اشارے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔افغانستان دہشتگردی اور انٹیل شیئرنگ میں ابھی بھی امریکہ سے رابطہ چاہیے۔ ایران کے ساتھ سرحد پر کشیدگی بڑھے تو پاکستان کو دونوں طرف سے پریشر ملتا ہے۔ ثالثی کر کے پاکستان کم از کم یہ میسج دے رہا ہے کہ ہم مسئلہ کا حصہ نہیں حل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔دوسری بڑی مجبوری پاکستان ایران اور انڈیا کے بیچ ہے اور پیچھے افغانستان نہ یہاں سے نکل سکتا ہے نہ لڑ سکتا ہے۔اگر ایران-امریکہ جنگ چھڑے تو سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا  تیل مہنگا مہاجرین کا سیلاب اور بلوچستان میں عدم استحکام۔ اس لیے ثالثی کرنا چوائس کم اور ڈیمج کنٹرول زیادہ ہے۔سچ یہ ہے کہ شارٹ ٹرم میں کوئی بڑا فائدہ نظر نہیں آتا۔لونگ ٹرم میں پاکستان یہ ثابت کرنے کی کوش کر رہا ہے کہ وہ خطے میں اسٹیبلائزر بن سکتا ہے۔ اگر کبھی کوئی ڈیل ہوئی تو کم از کم کریڈٹ ملے گا کہ پاکستان نے چینل کھلا رکھا۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ یہ سب اپنی بقا کے لیے ہے پاکستان کی پالیسی اس وقت کم سے کم نقصان پر چل رہی ہے زیادہ سے زیادہ فائدہ پر نہیں۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں پاکستان کو معاشی طور پر خودمختار ہونے کا کوئی راستہ باقی ہے یا یہ انحصار اب مستقل ہو چکا ہے؟ کیونکہ یہاں قومی پالیسی کا تصور تک نہیں۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری