کیا پاکستان اس وقت بیچ میں پِس رہا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس آپشن کم ہیں؟ مسعود حسین جعفری
کیا پاکستان اس وقت بیچ میں پِس رہا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس آپشن کم ہیں؟ ایران امریکہ سے کہہ رہا ہے پیغام پاکستان کے ذریعے بھیجو امریکہ بھی پاکستان کو استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کے ایران سے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں۔مطلب پاکستان کی مرضی نہیں مجبوری ہے۔ اگر انکار کرے تو دونوں ناراض اگر کرے تو گالیاں بھی کھائے اور گارنٹی بھی کوئی نہیں۔لیکن یہ رگڑا کیوں لگ رہا ہے؟ لوگ کہتے ہیں پاکستان امریکہ کا آلہ کار بن گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی ٹوٹ گئی تو پاکستان کے سرحدی علاقے سب سے پہلے متاثر ہوں گے نہ امریکہ پاکستان کو کریڈٹ دے گا نہ ایران۔ اگر ڈیل ہوئی تو کریڈٹ بڑے لے جائیں گے اگر ناکام ہوئی تو الزام پاکستان پر آئے گا کہ ثالثی نہیں کر سکے۔بلوچستان اور سیستان کا بارڈر پہلے ہی حساس ہے ایران-امریکہ جنگ ہوئی تو دہشتگردی اور مہاجرین کا بوجھ سیدھا پاکستان پر آئے گا۔ تو پھر پاکستان کر کیا رہا ہے؟ یہ رگڑا اس لیے برداشت کر رہا ہے کیونکہ متبادل بدتر ہے۔اگر پاکستان انکار کر دے تو خطے میں جنگ کا امکان بڑھے گا اور وہ جنگ پاکستان کی مغربی سرحد پر لگے گی۔ایکٹو ثالثی سے پاکستان اپنے لیے تھوڑی سی لیوریج بنانے کی کوش کر رہا ہے کہ دیکھو ہم بغیر جنگ کے مسئلہ حل کرانے کی کوش کر رہے ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے پاس نہ پیسے ہیں نہ فوجی طاقت نہ سفارتی وزن کہ وہ امریکہ اور ایران دونوں کو اپنی بات منوا سکے تو بس پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور پل پر سب چلتے ہیں اور گزر کر بھول جاتے ہیں۔

Comments
Post a Comment
Any