ایران کے 14 نکات کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ مسعود حسین جعفری
ایران کے 14 نکات کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ امریکہ کا مؤقف سخت ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی 14 نکاتی تجویز کو قابل قبول نہیں کہا۔امریکہ کی 5 شرائط سامنے آئی ہیں ایران صرف 1 جوہری پلانٹ چلائے، 400 کلو افزودہ یورینیم امریکہ کو دے، اور ایران کو جنگ کے نقصان کا معاوضہ نہ ملے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی یعنی وہ مزید دباؤ چاہتے ہیں۔ایران کا مؤقف بھی سخت ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری تنصیبات ختم کرنے یا انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی شرط قبول نہیں کرے گا۔ایران کہہ رہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔یعنی دونوں فریق کی ریڈ لائنز ٹکرا رہی ہیں۔ امریکہ جوہری پروگرام ختم کرنا چاہتا ہے، ایران صرف محدود کرنا چاہتا ہے۔جبکہ پاکستان کا دونوں سے اچھا رابطہ ہے امریکہ پاکستان کو افغانستان کے معاملے میں استعمال کرتا رہا ہے اور ایران ہمسایہ ہے۔اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی اس لیے اعتماد موجود ہے۔محسن نقوی کی تہران آمد اور اسد منیر کی حالیہ ملاقات سے لگتا ہے ایران سنجیدہ ہے۔ایران نے خود کہا ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے۔ایران کی تجویز میں اسرائیل کی کارروائیاں روکنا شامل ہے لیکن اسرائیل اس مذاکرات کا حصہ نہیں اور امریکہ اسرائیل کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔امریکہ میں ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ ایران کے ساتھ نرم نہ پڑے۔ ایران میں بھی سخت گیر حلقے کوئی رعایت نہیں چاہتے۔اعتماد کا فقدان ہے برسوں کی دشمنی ہے ایران کہتا ہے امریکہ وعدے توڑتا ہے، امریکہ کہتا ہے ایران خفیہ جوہری کام کرتا ہے۔امریکہ 20 سال کے لیے جوہری پروگرام معطل کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہی بیچ کا راستہ بنے۔اگر ڈیل نہ ہوئی تو جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے۔ ایرانی میڈیا کہہ رہا ہے کہ امریکہ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔پاکستان کا کردار ابھی پیغام رساں کا ہے وہ ڈیل نہیں کرا رہا بس چینل کھلا رکھ رہا ہے۔ اصل فیصلہ واشنگٹن اور تہران میں ہوگا۔اگر یہ تجویز ناکام ہوتی ہے تو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز کا بند ہونا ہے جس سے تیل کی قیمتوں پر فوری اثر پڑے گا۔

Comments
Post a Comment
Any