یونیورسٹی روڈ کراچی،نااہلی لاپرواہی کاہلی سستی یا کرپشن ؟؟ مسعود حسین جعفری



یونیورسٹی روڈ پچھلے ساڑھے 4 سال سے ریڈ لائن BRT کی وجہ سے تباہ حال ہے۔ سڑک پر بڑے گڑھے، سیوریج کا پانی اور ٹریفک جام معمول ہے۔ شہری روزانہ حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ کرپشن کے الزامات اور ذمہ دار کون؟ سرکاری افسران + ٹھیکیدار گٹھ جوڑ سڑکوں کے ٹھیکوں میں ہر سطح کے افسران کرپشن میں ملوث ہیں۔ "بلیو آئیڈ" ٹھیکیداروں کو مہنگے ٹھیکے ملتے ہیں اور متعلقہ محکموں کے وزراء بھی حصہ لیتے ہیں۔کے ایم سی نے اب تک سڑکوں پر 1500 ملین روپے خرچ کیے، جبکہ مرمت کے لیے 4000 ملین درکار ہیں۔ 2023-24 کا 3.6 ارب کا بجٹ ابھی تک جاری نہیں ہوا۔ فنڈز میں تاخیر سے کام رکا ہوا ہے۔مرتضیٰ وہاب نے مانا کہ کام کا معیار تسلی بخش نہیں تھا اور ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے کہا حادثے والی جگہ کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے۔جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے شہر کو ٹوٹی سڑکوں اور ناکام منصوبوں کا بھول بھلیاں کہا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے Red Line کے Lot 2 کا ٹھیکہ سست روی اور ناقص کارکردگی پر منسوخ کر دیا۔ 4 سال پہلے ٹھیکہ دیا گیا تھا مگر کام معیاری نہیں تھا۔ اب موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی روڈ کی مکسڈ ٹریفک لین 90 دن میں بنانے کا اعلان کیا ہے۔ FWO سے بات ہوئی ہے اور عید کی چھٹیوں میں بھی کام جاری رہے گا۔ براہِ راست کسی ایک شخص کا نام عدالت میں ثابت نہیں ہوا، لیکن رپورٹس کے مطابق KMC افسران، ٹھیکیدار مافیا، متعلقہ وزراء، اور ناقص کارکردگی والے کنٹریکٹرز اس تباہی کے ذمہ دار قرار دیے جا رہے ہیں۔ فنڈز کی عدم دستیابی اور احتساب نہ ہونا اصل وجہ ہے۔ یہ عوامی رپورٹس اور سیاسی بیانات پر مبنی ہے۔ حتمی ذمہ داری کا تعین انکوائری رپورٹ کے بعد ہی ہوگا، جو سندھ حکومت نے شروع کر دی ہے۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری