بلآخر یہ تجربہ بھی حسب سابق ناکام ہوا! مسعود حسین جعفری
پاکستان اس وقت نصف صدی کے سب سے شدید ایندھن بحران سے گزر رہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق تیل کا بل 167% بڑھ گیا شہباز شریف نے خود بتایا کہ مغربی ایشیا/ایران امریکا تنازع کی وجہ سے پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل $300 ملین سے بڑھ کر $800 ملین ہو گیا۔ اسے $800 ملین ہفتہ وار بھی کہا جا رہا ہے۔ پیٹرول-ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر ڈیزل Rs400 فی لیٹر ہو گیا پیٹرول Rs393.35 فی لیٹر تک گیا موٹر فیول 40% مہنگا ہوا، ڈیزل 93% مہنگا حکومت نے وقتی ریلیف کے لیے پیٹرول Rs378 کر دیا اور ڈیزل میں Rs80 فی لیٹر کمی کی۔مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر: 10.9%
خوراک کی مہنگائی شہروں میں 6.9%، دیہات میں 7.3%
انرجی گروپ 13.8% مہنگا بجلی 33% مہنگی ایل پی جی 63% مہنگی شرح سود بڑھا دی گئی اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 1% بڑھا کر 11.5% کر دیا۔ اگر تیل $120 فی بیرل رہا تو مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ترسیلات زر میں کمی کا خطرہ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات 3.5% کم ہو سکتی ہیں کیونکہ وہاں کام کرنے والے پاکستانی مزدور متاثر ہوں گے۔جی ڈی پی کو نقصان ماہرین کے مطابق یہ جھٹکا جی ڈی پی کا 1.5% کھا سکتا ہے۔ٹرانسپورٹ، صنعت اور زراعت سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔یہ بحران صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں یہ زراعت، ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی، روزگار ہر چیز کو متاثر کر رہا ہے۔ چونکہ پاکستان توانائی کا 80% سے زیادہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی تنازع کا براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ حکومت وقتی ریلیف تو دے رہی ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگر تنازع لمبا ہوا تو معاشی استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔ حسب سابق یہ تجربہ بھی ناکام ثابت ہوا۔

Comments
Post a Comment
Any