اسرائیلی امریکی سفاکیت،خلیج فارس کے راستوں کو متاثر، ایشیا کی زراعت پر دباؤ بڑھا دیا ہے! مسعود حسین جعفری
فروری 2026 سے شروع ہونے والی US-اسرائیل اور ایران کی جنگ نے خلیج فارس کے راستوں کو متاثر کر کے ایشیا کی زراعت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔خلیج فارس کا آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 30-35% یوریا برآمدات کا گزرگاہ ہے۔ جنگ کی وجہ سے یہاں شپنگ تقریباً رک گئی ہے اور قطر، ایران، سعودی عرب جیسے بڑے یوریا برآمد کنندگان کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ نتیجتاً عالمی یوریا کی سپلائی کا تقریباً 30% مارکیٹ سے نکل گیا ہے اور فروری سے اب تک اس کی اسپاٹ قیمت میں 40% اضافہ ہو چکا ہے۔ کسانوں کا ردعمل تھائی لینڈ، فلپائن، بنگلہ دیش، آسٹریلیا
یہی چار ممالک اس وقت اہم بوائی کے موسم میں ہیں۔ تھائی لینڈ چاول کے کسان بوائی روک رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں کیونکہ پیداواری لاگت $33,000 تک پہنچ رہی ہے جبکہ فصل سے آمدنی $22,000 رہنے کا اندازہ ہے۔ وسطی تھائی لینڈ کی کھاد کی دکانوں میں یوریا ہفتوں سے ناپید ہے۔بنگلہ دیش ڈیزل کی قلت نے آبپاشی متاثر کر دی ہے۔ کسانوں کو فی کس صرف 5 لیٹر ڈیزل مل رہا ہے، جو 2-3 دن کی آبپاشی کے لیے کافی ہے۔ نتیجے میں دھان کی بوائی تاخیر کا شکار ہے۔فلپائن حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مداخلت نہ ہوئی تو گھریلو چاول کی پیداوار 20-50% تک گر سکتی ہے۔آسٹریلیا خشک سالی کے ساتھ کھاد کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے کسان گندم اور کینولا کا رقبہ کم کر رہے ہیں۔ قیمتوں اور پیداوار پر اثر یوریا کی قیمتیں سال کے آغاز سے 83% اور حملے کے بعد 50% بڑھ کر $717.74 فی ٹن ہو گئی ہیں۔ایندھن، کھاد، فریٹ کی لاگت بڑھنے سے تھائی لینڈ، ویتنام، انڈونیشیا میں کسان ان پٹ کم کر رہے ہیں اور کچھ جگہوں پر بوائی ہی روک دی ہے۔ بنگلہ دیش کے کسان کھلے عام کہہ رہے ہیں ہم صرف چاہتے ہیں کہ یہ ختم ہو۔ ایران کے ترجمان اسمیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ بھارت اور دیگر ممالک کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کی ذمہ داری US اور اسرائیل پر ہے۔

Comments
Post a Comment
Any