لیبیا اور عراق نے اپنے جوہری پروگرام ختم کیے، پھر بھی ان پر حملہ کیا گیا ! مسعود حسین جعفری



ایران کے اندر بھی بہت سے حلقے یہی موقف رکھتے ہیں کہ جوہری پروگرام قومی خودمختاری اور دفاع کا معاملہ ہے، اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ایران کے موقف کے پیچھے یہ دلائل دیے جاتے ہیں قومی خودمختاری ایران کا کہنا ہے کہ NPT کے رکن کی حیثیت سے اسے پرامن جوہری توانائی کا حق حاصل ہے۔ 2015 کے JCPOA معاہدے کے تحت بھی افزودگی کی محدود اجازت تھی، جس سے ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر نکل کر معاہدہ توڑا۔سیکیورٹی ڈیٹرنس ایرانی حکام کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوہری پروگرام ہی ملک کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ ٹرمپ نے خود کہا کہ اگر امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ نہ بناتا تو وہ مشرق وسطیٰ کو تباہ کر چکا ہوتا۔ ایران اسی کو دلیل بناتا ہے کہ پروگرام رکھنا ضروری ہے۔ماضی کا تجربہ ایران کا کہنا ہے کہ لیبیا اور عراق نے اپنے پروگرام ختم کیے، پھر بھی ان پر حملہ ہوا۔ اس لیے صرف پروگرام ختم کرنا سیکیورٹی کی گارنٹی نہیں۔معاشی فائدہ جوہری توانائی سے بجلی، میڈیکل آئسوٹوپس اور زرعی تحقیق میں مدد ملتی ہے۔ پابندیوں کے باوجود ایران یہ ٹیکنالوجی نہیں چھوڑنا چاہتا۔امریکا نے واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے اور وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔جنگ تیل کی برآمدات رکنے اور 3 ماہ کا خوراک کا ذخیرہ رہ جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ایران چاہتا ہے پہلے جنگ بندی ہو، جوہری بات بعد میں مگر امریکا جوہری پروگرام کو ہی بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے۔اس لیے ایران کے سامنے چوائس ہے: مکمل ڈٹ جانا اور پابندیوں/جنگ کا خطرہ مول لینا، یا کوئی ایسا فارمولا نکالنا جیسے 2015 میں تھا، جس میں محدود افزودگی کی اجازت ہو لیکن ہتھیار نہ بنائے جائیں۔


Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری