غزہ میں اجتماعی سزا اور جبری بے دخلی پر زور! مسعود حسین جعفری



غزہ پر جنگ کے آغاز (اکتوبر 2023) سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال شدید خراب ہوئی ہے۔  اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں کم از کم 1,155 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔تقریباً *11,750 سے 12,000* فلسطینی زخمی ہوئے۔اسی عرصے میں تقریباً 22,000 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2026 کے آغاز سے اب تک آبادکاروں نے کم از کم 10 فلسطینی قتل اور 385 کو زخمی کیا ہے۔ اکتوبر 2025 میں آبادکار حملوں کی تعداد 264 تک پہنچ گئی، جو 2006 سے اب تک ایک مہینے کی سب سے زیادہ تعداد تھی ان حملوں میں فوجی چھاپے، گھروں پر پتھراؤ، گاڑیوں کو نذرآتش کرنا، فصلوں اور زیتون کے درختوں کی تباہی، اور شہری آبادی پر براہ راست فائرنگ شامل ہے۔ اسکول چھٹی کے وقت بھیڑ والے علاقے میں بھی چھاپے ہوئے۔مغربی کنارے میں تقریباً 7.5 لاکھ اسرائیلی آبادکار 141 بستیوں اور 224 چوکیوں میں رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کے مطابق یہ بستیاں چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ کنونشن جبری منتقلی پر لاگو ہوتا ہے، رضاکارانہ نقل مکانی پر نہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے 13 نومبر 2025 تک مغربی کنارے میں 1,017 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں 221 بچے شامل تھے۔ اسی دوران 59 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے۔اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر نے خبردار کیا ہے کہ گھروں کی مسماری، جائیداد ضبطی، نقل و حرکت پر پابندیاں اور جبری بے دخلی میں اضافہ ہوا ہے۔ OHCHR کے مطابق مستقل بے دخلی "جنگی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔غزہ پر جنگ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی حالات روز بروز کشیدہ ہو رہے ہیں، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے "اجتماعی سزا" اور "جبری بے دخلی" کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری