اسرائیل اور امریکہ کا جنگی جنون، ملکی معیشت کے ساتھ شعبہ زراعت بھی برباد! مسعود حسین جعفری
اسرائیلی امریکی جنگی جنون سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے اور اثر دو طرح کا ہے براہ راست کھاد/ایندھن کی قیمتوں پر اور معیشت پر بالواسطہ دباؤ ہے۔کھاد اور زراعت پر اثر پاکستان یوریا اور ڈی اے پی کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اور خلیج فارس کے ذریعے آنے والی گیس پر انحصار ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی رکاوٹ نے LNG اور کھاد کی فراہمی روک دی ہے۔یوریا کی عالمی قیمت جنگ سے پہلے $470 فی ٹن سے بڑھ کر $700+ فی ٹن ہو گئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی دباؤ منتقل ہو رہا ہے۔پاکستان میں یوریا اور ڈی اے پی کل کھاد کے استعمال کا 75-83% بناتے ہیں، اس لیے ان کی دستیابی خوراکی سیکیورٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ایف اے او نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں ہے جو کھاد کا اسٹاک کم رکھتے ہیں اور خلیج کی سپلائی چین پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اس لیے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ایندھن اور مہنگائی پر اثر پاکستان میں ڈیزل زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ٹرک، ٹریکٹر، تھریشر سب ڈیزل پر چلتے ہیں۔اپریل-مئی 2026 میں جب گندم کی کٹائی ہو رہی تھی، ڈیزل کی قیمت زیادہ ہونے سے کٹائی اور نقل و حمل کی لاگت بڑھ گئی۔ یہ لاگت براہ راست آٹے اور خوراک کی مہنگائی میں منتقل ہو رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق، ہرمز کی طویل بندش سے پاکستان کی ترقی 0.5-1% کم ہو سکتی ہے، مہنگائی اور شرح سود بڑھے گی، اور روپے پر دباؤ آئے گا۔ حکومت نے کھاد کی سبسڈی بڑھانے اور تیل کی کھپت کم کرنے کے لیے الیکٹرک بسیں تیز کرنے کی بات کی ہے۔لیکن کسانوں کو اب بھی ڈر ہے کہ اگر کھاد اور ڈیزل مہنگا رہا تو وہ بوائی کم کریں گے، جس سے اگلی فصل متاثر ہوگی۔ پاکستان کو فوری طور پر کھاد کی قیمت اور دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے، اور بالواسطہ طور پر ایندھن کی مہنگائی سے خوراک کی مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ چونکہ پاکستان کے پاس بڑا اسٹریٹجک اسٹاک نہیں ہے، یہ خطرہ زیادہ ہے۔

Comments
Post a Comment
Any