پاکستان میں امریکہ کنگ میکر ہے، ایران میں محض تماشائی ہے! مسعود حسین جعفری


ٹرمپ رجیم چینج چاہتے تو ہیں، مگر پاکستان والا فارمولا ایران پر نہیں چل سکتا۔ وجہ ایران میں امریکی اثر و رسوخ صفر ہے۔سیدھا سا سوال ہے کیا ٹرمپ واقعی ایران میں رجیم چینج چاہتے ہیں؟ تو جواب ہاں، لیکن کھل کر نہیں کہتے۔ ثبوت یہ ہیں پہلی ٹرم 2017-2021 ٹرمپ نے 2018 میں ایران نیوکلیئر ڈیل JCPOA ختم کی اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ پالیسی لگائی۔ مقصد تھا کہ معاشی پابندیوں سے ایرانی عوام تنگ آ کر حکومت گرا دیں۔فروری 2026 میں امریکہ-اسرائیل حملے کے بعد ٹرمپ نے کہا ایرانی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایٹم بم چاہتے ہیں یا خوشحالی یہ رجیم چینج کا بالواسطہ اشارہ تھا۔ ٹرمپ عوامی سطح پر کہتے ہیں ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، صرف ایٹم بم نہیں چاہیے۔ مگر 2026 میں CIA کی رپورٹ لیک ہوئی کہ امریکہ ایران میں عوامی بے چینی کو سپورٹ کر رہا ہے۔امریکہ کے پاس 3 آپشن ہیں اور تینوں مشکل بھی۔پہلا فوجی حملہ کر کے حکومت گرانا عراق 2003 ماڈل ۔دوسرا پابندیوں سے معیشت تباہ کر کے عوامی بغاوت شاہ ایران 1979 ماڈل۔تیسرا اندر سے کوئی جنرل/گروپ توڑنا پاکستان/مصر ماڈل۔سعودی عرب کی ٹرمپ سے بڑی خواہش تھی ایران پر حملے جاری رکھو مگر رجیم چینج نہیں چاہتا، کیونکہ اس کے بعد خانہ جنگی ہو گی اور حوثی/داعش بارڈر پر آ جائیں گے۔انور قرقاش UAE نے کہا تھا GCC کا ایران پر ردعمل تاریخی طور پر سب سے کمزور تھا، کیونکہ سب کو ڈر ہے کہ رجیم چینج سے خطہ 10 سال کے لیے جلے گا اور پاکستان والا کھیل ایران میں ناممکن ہے۔ 2026 کی جنگ بندی کے بعد پالیسی یہ ہے۔ایران کو ایٹم بم سے روکو، میزائل پروگرام محدود کرو، اور پراکسیز کی فنڈنگ بند کرواؤ۔ حکومت گرانا دوسرے نمبر کا ہدف ہے، اور وہ بھی ایرانی عوام خود کریں کی امید پر۔اس سوال کا سیدھا جواب ٹرمپ چاہتا ہے، مگر کر نہیں سکتا۔ پاکستان میں امریکہ کنگ میکر ہے، ایران میں تماشائی ہے۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری