ضمانت مل گئی، رہائی کب؟ عمران خان کے مقدمات کا عدالتی ٹائم لائن! مسعود حسین جعفری



9 مئی کے 8 مقدمات سپریم کورٹ نے 263 دن پہلے ان 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ ایک لاکھ روپے فی مقدمہ کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دی گئی۔ ضمانت منظور ہونے کا مطلب مقدمہ ختم ہونا نہیں ہوتا، ٹرائل چلتا رہے گا۔دیگر سزائیں عمران خان کو 5 مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، مگر ہائیکورٹ نے تاحال کسی سزا کی توثیق نہیں کی۔ سب سے اہم القادر ٹرسٹ کیس ہے جس میں انہیں اور بشریٰ بی بی کو 14 سال قید کی سزا ہوئی۔ اس سزا کے خلاف اپیل 31 جنوری 2024 کو دائر ہوئی لیکن تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔ سزا معطلی کی درخواست پر بھی کوئی تاریخ طے نہیں۔ پی ٹی آئی کے اپنے قانونی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ استغاثہ کے پاس اب بھی اتنی گنجائش ہے کہ مقدمات کو طول دے سکے، جس کے باعث کسی ایک کیس میں ضمانت یا بریت کے باوجود رہائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ تحمل مزاج PTI قیادت کا ماننا ہے کہ جب تک محاذ آرائی ختم نہیں ہوتی، ریلیف کا امکان نہیں مجموعی تجزیہ یہ ہے کہ عمران خان 2026ء کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں اگر کوئی معجزہ، ڈیل یا غیر متوقع عدالتی ریلیف نہ ملا۔ عدالتی کارروائیوں کا اندازہ بتاتا ہے کہ قید 2026ء تک ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے چل سکتی ہے۔ قانونی طور پراگر سزائیں ہائیکورٹ/سپریم کورٹ سے کالعدم ہو جائیں تو اہلیت بحال ہو سکتی ہے۔ فی الحال 5 سزائیں ہیں لیکن ہائیکورٹ سے توثیق نہیں ہوئی۔الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت سزا یافتہ شخص 5 سال تک نااہل ہوتا ہے۔ اس لیے تمام سزاؤں کا ختم ہونا ضروری ہے۔سیاسی طور پر سینئر وکلا کے مطابق جب تک عمران خان کو سیاسی انتقام کا شکار خیال کیا جائے گا، مخالفین کے لیے انہیں شفاف انتخابات میں ہرانا ممکن نہیں۔لیکن PTI کے اندر بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ سخت گیر عناصر کی محاذ آرائی کی پالیسی نے سیاسی یا عدالتی ریلیف کے امکانات محدود کر دیے ہیں۔مستقبل قریب یعنی 2026 میں تمام مقدمات ختم ہونا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ القادر ٹرسٹ کیس سمیت کئی کیسز کی اپیلیں بیک لاگ کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔ جب تک یہ بڑی سزائیں ختم نہیں ہوتیں، رہائی اور حکومت میں واپسی قانونی طور پر ممکن نہیں۔ کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت ہو جائے تو صورتحال بدل سکتی ہے، ورنہ قانونی ٹائم لائن لمبی ہے۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری