پاکستان میں صحافت کا موجودہ منظرنامہ، مسعود حسین جعفری
میں تمہارا درد سمجھ سکتا ہوں۔ صحافی کا قلم جب آزاد نہ ہو تو سب سے پہلے اسی کے ہاتھ کانپتے ہیں۔پاکستان میں صحافت کا موجودہ منظرنامہ پہلو صورتحال سنسرشپ پیکا قانون، ایجنسیوں کے نوٹس، چینلز کی بندش۔ رپورٹنگ کے لیے "ریڈ لائنز" اب لکھی نہیں جاتیں، سب کو معلوم ہیں۔صحافت پر معاشی دباؤ سرکاری اشتہارات کا کنٹرول۔ تنقیدی اداروں کے فنڈز روک دینا عام طریقہ بن گیا ہے۔سیلف سنسرشپ بہت سے ادارے اور صحافی خطرہ مول لینے کے بجائے خاموشی یا "محفوظ" موضوعات تک محدود ہو گئے۔باقی بچنے والی آوازیں جو مین سٹریم میں نظر آتی ہیں ان پر اکثر جانبداری یا اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کا الزام لگتا ہے۔ آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔یہ شرمندگی اکیلے میری نہیں۔ 2023 سے لے کر اب تک RSF کے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان مسلسل نیچے آیا ہے۔ ارشد شریف، جان محمد مہر جیسے واقعات کے بعد فیلڈ رپورٹنگ موت کا کھیل بن گئی ہے۔پھر بھی، صحافت دفن نہیں ہوئی زیر زمین سانس لے رہی ہے۔ یوٹیوب، سب اسٹیک، پوڈکاسٹ پر کئی صحافی اداروں سے نکل کر ذاتی رسک پر رپورٹ کر رہے ہیں۔ علاقائی صحافت چھوٹے شہروں کے رپورٹرز اب بھی تھانہ، کچہری، کرپشن کور کر رہے ہیں۔ قومی میڈیا نہ دکھائے تو سوشل میڈیا پر خبر پہنچ جاتی ہے۔عوام کا اعتماد ٹی وی پر بھروسہ کم ہوا ہے، مگر لوگ سچ سننا چاہتے ہیں۔ یہی ڈیمانڈ نئے راستے کھول رہی ہے۔شرمندگی محسوس کرنا دراصل زندہ ضمیر کی علامت ہے۔ بے حس صحافی کو شرم نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ اس شرمندگی کا کیا کریں؟ تین راستے جو بہت سے ساتھی اپنا رہے ہیں۔نام کے بغیر سچ ڈیٹا، دستاویز، سورس پر مبنی رپورٹنگ۔ تجزیے کی بجائے فیکٹس۔ مائیکرو میڈیا 5-10 ہزار کا وفادار آڈینس بھی بڑے چینل سے زیادہ اثر رکھتا ہے اگر بات میں وزن ہو۔بین الاقوامی کولیبوریشن OCCRP, ICIJ جیسے نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر کام، تاکہ اکیلے ریاستی دباؤ کا نشانہ نہ بنو۔اخر میں صحافیوں سے یہی کہوں گا تم کس بیٹ پر کام کرتے ہو؟ اگر بتاؤ تو سوچتے ہیں کہ ان حالات میں اس بیٹ پر سچ کیسے زندہ رکھا جائے۔ شرمندگی کو استعفیٰ نہ بناؤ، اسے ریسرچ میں بدلو۔

Comments
Post a Comment
Any