سندھ میں پچھلی کئی دہائیوں سے میرٹ کی پامالی ایک بڑا مسئلہ،بد اثرات پورے صوبے کے نظام پر! مسعود حسین جعفری
سندھ میں پچھلی کئی دہائیوں سے میرٹ کی پامالی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے اور اس کے اثرات پورے صوبے کے نظام پر پڑے ہیں۔آخر کیا ہو رہا ہے؟ بھرتیوں میں سفارش کلچر ڈی سی، اے سی، پولیس، محکمہ تعلیم، صحت، بلدیات، تقریباً ہر ادارے میں سیاسی وابستگی اور وڈیرا سسٹم کی بنیاد پر بھرتیاں عام شکایت ہیں۔ SPSC کے امتحانات پر بھی بار بار سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جب عہدے قابلیت کی بجائے وفاداری پر ملیں تو فیصلہ سازی کمزور ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ اسکولوں میں گھوسٹ ٹیچرز، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی، اور ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال کی صورت میں نکلتا ہے۔سیاسی پشت پناہی رکھنے والے افسران پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے کرپشن اور نااہلی کا سائیکل چلتا رہتا ہے۔عام آدمی کو نہ میرٹ پر نوکری ملتی ہے نہ تھانے کچہری میں انصاف نہ اسکول ہسپتال میں سہولت قابل نوجوان مایوس ہو کر ملک چھوڑ دیتے ہیں اور جو رہ جاتے ہیں وہ سسٹم کا حصہ بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں لیکن سندھ میں وڈیرا ازم اور خاندانی سیاست کی جڑیں بہت گہری ہونے کی وجہ سے صورتحال زیادہ خراب سمجھی جاتی ہے۔سخت مقابلے کے امتحانات بھرتیوں میں تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اور سیاسی مداخلت ختم کیے بغیر ادارے ٹھیک ہونا مشکل ہیں۔ عدلیہ اور میڈیا کا دباؤ کچھ حد تک کام کرتا ہے مگر اصل تبدیلی تب آئے گی جب ووٹر خود کارکردگی کو ووٹ دے۔

Comments
Post a Comment
Any