کیا اب چین ثالثی کا کردار ادا کرے گا ؟ مسعود حسین جعفری
سرچ رزلٹس کے مطابق بیجنگ میں ٹرمپ اور شی کی میٹنگ کے ایجنڈے میں ایران کا مسئلہ سب سے اوپر ہے۔ رپورٹس میں صاف لکھا ہے کہ امریکہ چین سے چاہتا ہے کہ وہ تہران پر دباؤ ڈالے اور آبنائے ہرمز کے تنازعے میں توانائی کے راستے مستحکم کرے۔غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد کیوں ٹرمپ کو چین کی ثالثی چاہیے؟ سیدھا سا جواب ہے کہ چین کے پاس ایران پر لیوریج ہے چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار اور معاشی پارٹنر ہے۔ اگر بیجنگ کہے تو تہران کے لیے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ امریکہ براہِ راست جنگ سے بچنا چاہتا ہے فروری 2026 میں سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف والے اختیارات کم کر دیے تھے۔ اب فوجی ایکشن کا سیاسی خرچ بھی زیادہ ہے۔ اس لیے دباؤ کا راستہ بدل کر چین کو سامنے لانا سستا آپشن ہے۔اگر چین بیچ میں آ کر ایران کو مذاکرات پر راضی کر لے تو ٹرمپ اسے ڈیل آف دی ڈیل بیچ سکتے ہیں۔ 2025 میں بوسان میں انہوں نے چینی ٹیرف 57% سے 47% پر لانا بھی 12/10 ڈیل کہا تھا۔لیکن ایک مسئلہ اور بھی ہے چین خود نہیں چاہتا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مکمل غالب آ جائے۔ بیجنگ کا بیانیہ تنازعے کو مینیج کرو کسی کو گھٹنے نہ ٹکاؤ والا ہے۔ وہ ثالث بنے گا لیکن ایران کو سرعام نیچا دکھانے والا رول لینے سے بچے گا۔تو غالب امکان یہی ہے کہ ٹرمپ چین کو ثالثی پر آمادہ کریں گے مگر نتیجہ ایران گھٹنے ٹیکے کی بجائے فائر سیز اور محدود ڈی ایسکلیشن جیسا ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کیا شی جن پنگ کھل کر امریکہ کا ساتھ دیں گے یا بیچ کا راستہ نکال کر دونوں کو ناراض نہیں کریں گے؟

Comments
Post a Comment
Any