یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ملاقاتیں! مسعود حسین جعفری


حالیہ مہینوں میں یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ملاقاتیں اور سیکیورٹی تعاون واضح طور پر بڑھا ہے اور یہ سب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔نیتن یاہو اور محمد بن زاید کی ملاقات کا معاملہ کچھ یوں ہے۔مئی 2026 میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران-اسرائیل جنگ کے دوران یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا اور صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی اس دفتر کے مطابق یہ ملاقات تاریخی پیش رفت کا باعث بنی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات 26 مارچ کو العین میں ہوئی اور کئی گھنٹے جاری رہی۔موساد کے سربراہ ڈیڈی بارنیا نے جنگ کے دوران کم از کم دو بار یو اے ای کا دورہ کرکے فوجی کارروائیوں پر رابطہ کیا۔لیکن یو اے ای کی وزارت خارجہ نے اسے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے اسرائیل سے تعلقات عوامی ہیں اور ابراہام معاہدوں پر مبنی ہیں کسی خفیہ یا غیر شفاف انتظام پر نہیں۔ نئے معاہدے سیکیورٹی تعاون اور خفیہ ملاقات پر اختلاف کے باوجود  کھلے عام ہونے والی پیش رفت یہ ہے کہ آئرن ڈوم کی تعیناتی
 امریکی سفیر مائیک ہکابی نے 13 مئی 2026 کو تصدیق کی کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے حملوں کے دفاع کے لیے یو اے ای کو آئرن ڈوم بیٹریاں اور انہیں چلانے والے اہلکار بھیجے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم سسٹم کسی دوسرے ملک میں تعینات کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے یو اے ای کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے۔رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے ایران پر جوابی حملوں میں حصہ لیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 مئی کو یو اے ای اور اسرائیل نے مل کر ایران کے اسالویہ پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر حملہ کوآرڈینیٹ کیا۔اسرائیل نے جنوبی ایران میں شارٹ رینج میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ کوآرڈینیشن کی بھی اطلاعات ہیں۔ تو کیا یہ ایران کے خلاف نئی چالیں ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف سفارتی تعلق نہیں رہا اب یہ ہارڈ پاور سیکیورٹی الائنس بن رہا ہے۔ یاد رہے کہ ابراہام معاہدے کا ارتقا 2020 کے معاہدے جو سیاحت اور تجارت تک محدود تھے اب میزائل ڈیفنس انٹیلی جنس اور بحری تعاون میں بدل رہے ہیں ور ایران پر فوکس کر رہے ہیں یو اے ای اور بحرین کو فرنٹ لائن اڈاپٹر کہا جا رہا ہے جو اسرائیل کے ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس اور انٹیلی جنس کو امریکہ کی قیادت میں ایران مخالف ڈیفنس اسکیم میں ضم کر رہے ہیں۔جس میں امریکی حمایت شامل ہے۔امریکی سینیٹ میں مارچ 2026 میں ابراہام اکارڈز ڈیفنس کوآپریشن ایکٹ پیش ہوا ہے جس کا مقصد ایران اور اس کے پراکسیز کو روکنے کے لیے فوجی تعاون کو گہرا کرنا ہے۔ یو اے ای کا موقف سرکاری طور پر یہ ہے کہ وہ تصادم نہیں چاہتا اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ایران کے حملوں کے بعد ابوظہبی نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں اور اسے علاقائی اثر و رسوخ اور واشنگٹن تک رسائی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ نیتن یاہو کی ملاقات کی اسرائیلی تصدیق ہے یو اے ای نے انکار کیا ہے۔معاہدے کے مطابق آئرن ڈوم کی تعیناتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کھلے عام ہو چکی ہے۔تعاون کا محور ایران کے میزائل اور ڈرون حملے ہیں اور یہ تعلقات ابراہام معاہدوں سے آگے بڑھ کر عملی فوجی اتحاد کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ 


Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری