سندھ میں میرٹ کا قتل، اداروں کی تباہی کی داستان! مسعود حسین جعفری



سندھ میں میرٹ کا قتل: اداروں کی تباہی کی داستان کچھ یوں ہے کہ پچھلی چار دہائیوں سے سندھ کا انتظامی ڈھانچہ ایک ہی بیماری کا شکار ہے میرٹ کی پامالی ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے لے کر پرائمری اسکول تک، سفارش، وڈیرا ازم اور سیاسی وفاداری نے قابلیت کی جگہ لے لی ہے جس کا نتیجہ ادارے برباد عوام لاچار۔سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC نے تو شہریوں کو بری طرح ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا ہے۔ جس ادارے نے میرٹ کا محافظ بننا تھا وہ خود سب سے زیادہ متنازعہ رہا۔ 2013، 2018 اور 2021 کے CCE امتحانات پیپر لیک رزلٹ میں تاخیر اور من پسند امیدواروں کی بھرتی کے الزامات کی نذر ہوئے۔ عدالت نے کئی بار نتائج کالعدم کیے۔ جب AC اور سیکشن آفیسر ہی پیسے یا پرچی پر بھرتی ہوگا تو ضلع کیسے چلے گا؟ نتیجہ کمزور فیصلہ سازی اور فیلڈ میں نااہل افسران کی بھر مار۔محکمہ تعلیم کی بات کی جائے تو سندھ میں 40 ہزار سے زائد گھوسٹ ٹیچرز کی رپورٹس آتی رہی ہیں۔ 2016 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والی بایومیٹرک تصدیق میں ہزاروں استاد غیر حاضر نکلے۔ بھرتیاں سیاسی MPA/MNA کے کوٹے پر ہوئیں۔ نتیجہ آج 60 لاکھ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں اور جو اسکول ہیں وہ کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ میرٹ پر آیا ہوا استاد ہی بچوں کا مستقبل سنوار سکتا ہے پرچی والا نہیں۔اگر محکمہ صحت دیکھا جائے تو دیہی مراکز صحت RHC اور بنیادی مراکز BHU ڈاکٹروں سے خالی ہیں۔ وجہ ڈاکٹرز کی پوسٹنگ من پسند شہروں میں سیاسی دباؤ پر ہوتی ہے۔ 2019 میں PPHI کے تحت چلنے والے کئی مراکز میں عملہ صرف کاغذوں میں موجود تھا کورونا میں آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کا بحران اسی بدانتظامی کا شاخسانہ تھا۔ جب MS اور DHO کی تعیناتی ہی وفاداری پر ہو تو ہسپتال مریض کیسے بچائے؟ پولیس اور ریونیو
ایس ایچ او سے لے کر پٹواری تک ہر تعیناتی میں مقامی وڈیرا  سیاسی خاندان کی مرضی چلتی ہے۔ تھانے بکنے لگے اور زمینوں کا ریکارڈ سیاسی انتقام کا ہتھیار بن گیا۔ سندھ پولیس میں 2022 کی رپورٹ کے مطابق 30% سے زائد بھرتیاں عدالتی حکم پر روکی گئیں۔ جب تفتیش کرنے والا ہی نااہل ہو تو انصاف کہاں سے ملے؟ بلدیاتی ادارے اور ترقیاتی محکمات کی حالت زار سب کے سامنے ہے کراچی سے کشمور تک واٹر بورڈ، KDA، ورکس اینڈ سروسز میں ٹھیکے من پسند لوگوں کو ملتے ہیں جعلی بھرتیوں کا بوجھ اتنا ہے کہ ملازمین کی تنخواہ کے بعد ترقیاتی کام کے پیسے ہی نہیں بچتے۔ اسی لیے گٹر ابلتے ہیں اور سڑکیں ہر بارش میں بہہ جاتی ہیں۔سوال یہی اٹھتا ہے کہ سسٹم کیوں متاثر ہوا؟ وجہ صاف ہے جب ادارے کا سربراہ یہ سوچ کر لگایا جائے کہ وہ الیکشن میں کام آئے گا تو وہ عوام کا نہیں اپنے سیاسی آقا کا وفادار ہوگا احتساب نام کی چیز ختم ہو جاتی ہے کیونکہ افسر کو پتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بڑا ہے۔بھرتی میں تھرڈ پارٹی SPSC کو ختم کر کے FPSC طرز پر یا کسی غیرجانبدار ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے امتحان۔سیاسی مداخلت پر پابندی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اختیار وزیر اعلیٰ ہاؤس سے لے کر بورڈ کو دیا جائے۔کارکردگی آڈٹ ہر AC، DC، DHO کی سالانہ KPI رپورٹ پبلک کی جائے۔سزا اور جزا کا خصوصی اہتمام ایک گھوسٹ ٹیچر پکڑا جائے تو بھرتی کرنے والے سیکرٹری کو بھی سزا ہو۔سندھ کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی ہے تو صرف موقع کی جب تک وڈیرا ازم اور سیاسی پرچی کا بت نہیں ٹوٹے گا ڈگری ہاتھ میں لیے نوجوان ملک چھوڑتے رہیں گے اور ادارے قبرستان بنتے رہیں گے۔ میرٹ صرف ایک لفظ نہیں یہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا نام ہے اور یہ اعتماد سندھ میں بری طرح ٹوٹ چکا ہے۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری