
پاکستان کو ایران سے سستا پیٹرول اور گیس لینے میں اصل رکاوٹ 3 بڑی وجوہات سامنے نظر آتی ہیں۔ یہ معاملہ حکومت معیشت اور خارجہ پالیسی کا ہے۔سب سے پہلی اور بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں ہیں۔ایران پر امریکہ کی سخت معاشی پابندیاں لگی ہوئی ہیں جو بھی ملک ایران سے تیل/گیس خریدے گا اس پر بھی امریکی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ پاکستان کو IMF سے قرضے FATF، ڈالر اور عالمی بینک کی امداد چاہیے۔ اگر امریکہ ناراض ہوا تو پاکستان کی معیشت کا دیوالیہ نکل سکتا ہے اس ڈر سے پاکستان نے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن کا اپنا حصہ آج تک مکمل نہیں کیا حالانکہ ایران نے اپنا حصہ مکمل کر لیا ہے۔ اب پاکستان نے منصوبہ وقتی طور پر مؤخر کر دیا ہے اور قانونی تنازع سے بچنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا دباؤ ہے۔پاکستان اپنی تیل کی 85% ضرورت درآمد کرتا ہے اور زیادہ تر تیل سعودی عرب، UAE سے آتا ہے سعودی عرب پاکستان کا بڑا مالی مددگار ہے سعودی-ایران تعلقات خراب رہتے ہیں اگر پاکستان ایران سے بڑے پیمانے پر تیل لے تو سعودی عرب ناراض ہو کر قرضے اور تیل کی ادھار سہولت بند کر سکتا ہے۔ تیسری بڑی رکاوٹ ایل این جی کے مہنگے معاہدے۔پاکستان نے قطر وغیرہ سے ٹیک اور پے بنیاد پر مہنگی ایل این جی خریدنے کے طویل مدتی معاہدے کر رکھے ہیں۔ یعنی گیس استعمال ہو یا نہ ہو پیسے دینے پڑیں گے اس وقت پاکستان میں گیس کی طلب کم ہے اور ایل این جی وافر ہے اس لیے حکومت کو مجبوراً مقامی کمپنیوں سے کہا گیا کہ پیداوار کم کریں ایسے میں ایران سے نئی گیس لانا حکومت کے لیے سر درد بن جائے گا۔ تاپی گیس پائپ لائن اور ایران پائپ لائن دونوں بلوچستان سے گزریں گی وہاں سکیورٹی صورتحال خراب ہے فوج کو خدشہ ہوتا ہے کہ پائپ لائن بار بار اڑائی جائے گی جس سے ملک کی ساکھ اور سرمایہ کاری دونوں خطرے میں پڑیں گی۔ اگر خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو فوج کا اصولی مؤقف یہی رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کو ناراض کر کے معیشت کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا لیکن یہاں اصل مجبوری معاشی ہے پاکستان کے پاس صرف 28 دن کا تیل ذخیرہ تھا جنگ کی صورت میں سپلائی رک سکتی ہے ایسے میں امریکہ اور خلیجی ممالک سے تعلقات خراب کرنا ریاست کے لیے خودکشی ہوگی۔ ویسے تو پاک ایران گیس پائپ لائن پر فوری کام شروع ہونا چاہیے رپورٹس کے مطابق اگر امریکی پابندیوں میں نرمی آئی تو نہ صرف گیس بلکہ ایران سے سستے خام تیل لینے کے معاملات کو بھی عملی صورت دینی چاہیے۔ آخر میں خلاصہ یہ ہے کہ امریکی پابندیاں، سعودی دباؤ، اور مہنگے ایل این جی معاہدے ہیں۔ فوج سمیت پوری ریاست کی ترجیح یہی ہے کہ پہلے معیشت بچائی جائے۔ جس دن امریکہ ایران تعلقات بہتر ہوئے یا پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہوا، اس دن ایران سے سستا تیل آنا شروع ہو جائے گا۔
Comments
Post a Comment
Any