زبردستی مسلط کی جانے والی حکومت کو لیوی کم کر کے کوئی اور ذریعہ آمدن ڈھونڈنا چاہیے، مسعود حسین جعفری
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ واقعی بہت زیادہ ہے اور اس وقت قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔اس وقت پیٹرول پر کتنا ٹیکس ہے؟ مئی 2026 حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت*: 414.78 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 414.58 روپے فی لیٹر 317c ٹیکس کی تفصیل فی لیٹر پیٹرول پیٹرولیم لیوی 160.61 روپے تک، یا فروری 2026 کی دستاویز کے مطابق 84.40 روپے کسٹم ڈیوٹی 24.12 روپے سے 15.84 روپے تک کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے آئل کمپنیوں کا مارجن 7.87 روپے ڈیلرز کا کمیشن 8.64 روپے ۔ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا تقریباً 46% صرف ٹیکسز اور مارجنز پر مشتمل ہے۔ یعنی اگر ایکس ریفائنری قیمت 247.15 روپے ہے تو عوام 211.26 روپے صرف ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ سیلز ٹیکس فی الحال صفر ہے۔ ڈیزل پر ایکس ریفائنری پرائس 461.23 روپے پر 59.12 روپے کے ٹیکسز ہیں، یعنی 11.36%۔ پیٹرولیم لیوی صفر ہے لیکن 35.74 روپے کسٹم ڈیوٹی ہے۔ حکومت مزید ٹیکس کیوں لگا رہی ہے؟ آئی ایم ایف کے مطالبات آئی ایم ایف نے بجٹ 2026-27 کے لیے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دی جائے اور ٹیکس چھوٹ کم سے کم رکھی جائے۔ مالی بوجھ سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کا کہا گیا ہے۔پیٹرولیم لیوی کا ہدف حکومت 1468 ارب روپے کے سالانہ ہدف کے قریب ہے، لیکن اس کے باوجود لیوی مزید بڑھانے پر غور ہو رہا ہے۔عالمی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا ہے۔ پاکستان درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے اس لیے اثر سیدھا پڑتا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ 400 روپے سے اوپر پیٹرول سے ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی سب مہنگی ہوتی ہے۔ ماہرین مئی میں مزید جھٹکے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔عوام پر بوجھ تنخواہ دار طبقہ اور غریب آدمی کے لیے گزارا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ آمدنی نہیں بڑھی لیکن خرچے دگنے ہو گئے۔ حکومتی موقف قرض اور خسارہ آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانی ہے اور قرضوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔ پیٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔شرح نمو کا ہدف اصلاحات سے آئندہ مالی سال شرح نمو 5.5% تک رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بے شک عوام پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور 414 روپے لیٹر پیٹرول عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے لیوی بڑھا رہی ہے۔تباہی کا انحصار اس پر ہے کہ یہ پالیسیاں کب تک چلتی ہیں۔ اگر ٹیکس سے جمع پیسہ صحت، تعلیم، روزگار پر لگے اور کرپشن کم ہو تو معیشت سنبھل سکتی ہے۔ اگر صرف قرض اتارنے اور خسارہ پورا کرنے میں لگتا رہے تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔بہت سے ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کر کے براہ راست ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہیے تاکہ بوجھ صرف عام آدمی پر نہ پڑے۔

Comments
Post a Comment
Any